خطبات محمود (جلد 36) — Page 230
$1955 230 خطبات محمود جلد نمبر 36 گے کہ آپ ہمارے آقا ہیں ، ہماری پرورش آپ کے ذمہ ہے۔اس لیے آپ ہی ہماری ضرورت کو پورا فرما ئیں۔اسی طرح جب بھی کسی اہم معاملہ میں ہمیں کسی روشنی کی ضرورت ہو گی ہم رآن کریم کے پاس جائیں گے اور اُس سے روشنی حاصل کریں گے۔جب آقا موجود ہے تو ہمیں کوئی فکر نہیں ہو سکتا۔ہر ضرورت کے وقت ہم اُس کے پاس جائیں گے اور جس چیز کی ضرورت ہو گی اُس سے مانگ لیں گے۔ہاں اگر کوئی ایسی بات ہو کہ جس کا گردو غبار کی وجہ سے صحیح پتا نہ لگ سکے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات سے اُس کا پتا لگ سکتا ہے۔میں نے اس رنگ میں " تذکرہ " کا مطالعہ کیا ہے اور اس سے بہت کچھ فائدہ اٹھایا ہے۔مثلاً قرآن کریم کی ایک آیت ہے کہ أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا 5 اس آیت کے متعلق مفسرین نے بڑی بحثیں کی ہیں لیکن وہ کسی صحیح نتیجہ تک نہیں پہنچ سکے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں اس کو حل کر دیا گیا ہے۔کیونکہ یہی آیت آپ پر بھی نازل ہوئی اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے ساتھ " وحی " کا ذکر آتا ہے۔چنانچہ آپ کا ایک الہام ہے اَنَّ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا - قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوْلَّى إلَى انَّمَا الهُكُم إِلهُ وَاحِدٌ 6 اس وحی کے لفظ نے آیت کے معنوں سے پردہ اٹھا دیا اور بتا دیا کہ ایک زمانہ ایسا آتا ہے جب وحی الہی سے دنیا محروم ہو جاتی ہے۔لیکن پھر اللہ تعالیٰ اس بند دروازہ کو کھول دیتا ہے اور وحی الہی کا سلسلہ جاری ہو جاتا ہے۔گویا " كَانَتَا رَتْقًا" اور " فَفَتَقْنَهُمَا" کے معنی ہماری سمجھ میں آگئے۔اس سے پہلے "رتقا" اور " فتق" کے معنی کسی مفسر پر اس رنگ میں نہیں گھلے۔وہ اور اور معنے کرتے رہے ہیں لیکن جب خدا تعالیٰ نے یہ آیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر الہاما نازل کی تو اس کے معنے واضح ہو گئے۔اسی طرح اور بیسیوں آیات قرآن کریم کی ایسی ہیں جن کے معنے آسانی سے سمجھ نہیں آتے تھے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کی وجہ سے اُن پر ایسی روشنی پڑی کہ ان کے معنے حل ہو گئے۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بتایا ہے کہ قرآن کریم میں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق ج