خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 307

خطبات محمود جلد نمبر 36 307 $1955 آج کل جلسہ کے بوجھ اور تھکان کی وجہ سے میری طبیعت کچھ ضعف محسوس کرتی ہے اور سر چکراتا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ مجھے کچھ دن آرام مل جائے تا کہ طبیعت اعتدال پر آجائے۔مجھے امید نہیں تھی کہ میں جلسہ سالانہ کے موقع پر احباب کے سامنے اتنا بول سکوں گا۔لیکن خدا تعالیٰ کا فضل ہوا اور مجھے دوسرے دن ایک گھنٹہ تئیس منٹ اور تیسرے دن ایک گھنٹہ چھپن منٹ تک بولنے کی توفیق ملی۔گویا آخری دو دنوں میں میں نے تین گھنٹے انیس منٹ تک تقریر کی۔یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی عنایت ہے ورنہ مجھ میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ میں اس قدر بوجھ برداشت کر سکتا۔خدا تعالیٰ ہماری جماعت کے دوستوں کو بھی توفیق عطا فرمائے کہ وہ آئندہ زیادہ محنت کریں اور صحیح طریق پر محنت کریں اور اپنی کمائی اور معیار زندگی کو اونچا کریں۔اب جو شخص سو روپیہ ماہوار کماتا ہے وہ آئندہ ایک ہزار روپیہ ماہوار کمائے ، جو احمدی ملازم اس وقت پچاس روپیہ ماہوار دے رہا ہے وہ آئندہ ایسی تندہی سے کام کرے کہ اُسے پچاس روپیہ کی بجائے ایک سو یا ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار مل جائے۔ہمارا جو تا جر اس وقت پچاس روپیہ روزانہ کی پکری کرتا ہے وہ آئندہ سال اتنی ترقی کرے کہ اُس کی روزانہ بکری چار پانچ سورو پیہ تک پہنچ جائے اور اس طرح اُس کی کمائی کے ساتھ ساتھ سلسلہ کی آمد بھی بڑھے۔اگر ہمارے دوست محنت کریں اور تحریک اور صدرانجمن احمد یہ دونوں کا بجٹ پچاس ساٹھ لاکھ روپیہ سالا نہ ہو جائے تو مختلف ممالک میں مساجد بھی تعمیر کی جاسکتی ہیں۔اس وقت مالی کمزوری کی وجہ سے ہم ہر ملک میں مساجد تعمیر نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے کام میں ترقی نہیں ہو رہی۔دمشق سے بھی مجھے چٹھی آئی ہے کہ جس علاقہ میں ہماری مسجد ہے اُس کی عمارات سرکاری ضروریات کے پیش نظر گرائی جا رہی ہیں۔اس لیے ہمیں اپنی مسجد ، مہمان خانہ اور لائبریری وغیرہ کے لیے کسی دوسرے مقام پر زمین خریدنے کی سخت ضرورت ہے۔اگر ہم نے فوری طور پر اس کا انتظام نہ کیا تو ہمیں کوئی مناسب مقام نہیں مل سکے گا۔اسی طرح اور بھی سلسلہ کی کئی ضروریات ہیں جن کے لیے روپیہ کی ضرورت رہتی ہے۔امریکہ کی جماعت کو ہی لے لو۔وہ اپنی آمد بڑھانے کی اتنی کوشش کر رہی ہے کہ بعید نہیں