خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 308

$1955 308 خطبات محمود جلد نمبر 36 کہ آئندہ سال میں اُن کی آمد لاکھ سوالاکھ روپیہ تک پہنچ جائے۔بلکہ میں تو انہیں یہ تحریک کر رہا ہوں کہ آئندہ چند سال میں ان کا بجٹ چھپیں تمہیں لاکھ روپیہ سالا نہ ہو جانا چاہیے۔ادھر ہمارا مرکزی بجٹ بھی اگر چھپیں تمھیں لاکھ روپیہ سالانہ تک پہنچ جائے تو یورپ اور دوسرے ممالک میں زیادہ سے زیادہ مشن قائم کئے جاسکتے ہیں اور مختلف زبانوں میں قرآن کریم کا ترجمہ جلد سے جلد شائع کیا جاسکتا ہے۔میں ناظروں اور وکلاء کو بھی اِس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ یہاں ایک ایک دفتر میں آٹھ آٹھ دس دس آدمی ہیں اور باہر کے ممالک میں ہمارا صرف ایک ایک مبلغ ہے اور وہ اکیلا اتنی محنت کرتا ہے کہ ہمارے انگلستان کے مبلغ نے ہی لکھا کہ دن رات صرف فون پر پیغام وصول کرنے اور اُن کا جواب دینے کے لیے ہی ایک کمرہ سے دوسرے کمرے میں جانا پڑے تو اس کے لیے آٹھ گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔گویا اگر وہ تبلیغ نہ کرے صرف فون پر آنے والے پیغامات کا ہی جواب دے تو اُس کے روزانہ آٹھ گھنٹے خرچ ہوتے ہیں لیکن پھر بھی وہ تبلیغ کرتا ہے۔اگر وہ لوگ اتنے مصروف ہونے کے باوجو د سلسلہ کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں تو ہمارے ناظروں اور وکلاء کو بھی کی چاہیے کہ وہ بھی اپنے کام کی رفتار کو بڑھائیں۔اسلام پر اب ایسا نازک وقت آیا ہوا ہے کہ جب تک ہم اپنی طاقت سے بالا کام کرنے کی کوشش نہیں کریں گے اُس وقت تک اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔جب خدا تعالیٰ جماعت کے چندوں کی تعداد بڑھا دے گا تو تبلیغ کے وسیع ہونے سے آدمیوں کی تعداد بھی بڑھ جائے گی اور مختلف ممالک میں نئے مشن کھولے جاسکیں گے۔بور نیو میں اس وقت ہمارے دو مبلغ ہیں۔پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس علاقہ میں احمدیت کا پھیلنا مشکل ہے اس لیے یہاں دو مبلغوں کو بٹھانے کی کیا ضرورت ہے اور اس علاقہ میں پہلے بہت ہی تھوڑے احمدی تھے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہاں صرف ایک ہی احمدی تھے اور وہ ڈاکٹر بدرالدین صاحب تھے۔میں وہاں کے مبلغین کو بار بار کہہ رہا تھا کہ اپنے کام کو بڑھاؤ۔آخر خدا تعالیٰ کا فضل ہوا اور اس علاقہ میں احمدیت کے پھیلنے کے سامان پیدا ہو گئے۔ہمارا ایک مبلغ بور نیو کے ایک حصہ میں تبلیغ کے لیے گیا اور خدا تعالیٰ کا یہ فضل ہوا کہ وہاں احمدیت کی ایک رو