خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 203

$1955 203 خطبات محمود جلد نمبر 36 حاصل کرتے رہے ہیں۔انہوں نے واپس جا کر ملازمت اختیار کر لی تھی۔انہوں نے لکھا ہے کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے اب میں اپنی زندگی اسلام کی خدمت کے لیے وقف کرتا ہوں۔باقی لوگوں میں سے بھی جن کو خدا تعالیٰ توفیق دے انہیں اپنی زندگیاں پیش کرنی چاہئیں۔پھر جو لوگ سلسلہ کے لیے زندگی وقف کرنے کے قابل نہیں وہ ایسے لوگوں کو وقف میں حصہ لینے کی تحریک کریں جو سلسلہ کے کام سرانجام دے سکتے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے حجۃ الوداع میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ فَلْيُبَغِ الشَّاهِدُ الْغَائِب جو حاضر ہیں وہ اُن لوگوں تک بھی یہ باتیں پہنچادیں جو یہاں موجود نہیں فَرُبَّ مُبَلَّغ أوعى مِنْ سَامِع 5 کیونکہ بسا اوقات جولوگ موجود نہیں ہوتے وہ سننے والے کی نسبت بات کو زیادہ یا درکھتے ہیں۔پس جو لوگ تجارتوں اور کارخانوں وغیرہ کے کام کا تجربہ رکھتے ہوں یا گورنمنٹ کے دفاتر میں کام کرتے رہے ہوں اُن کو تحریک کریں کہ وہ اپنے کاروبار اپنے بیٹوں کے سپرد کر دیں اور سلسلہ کی خدمت کریں۔اسی طرح میں نے اعلان کیا تھا کہ احباب ربوہ میں انڈسٹری شروع کریں تا کہ یہاں آکر غریب لوگ بھی بس سکیں۔پہلے میں نے سلسلہ کو کہا تھا کہ وہ انڈسٹری اپنے ہاتھ میں رکھے۔لیکن چونکہ ہمارے کارکنوں کو تجربہ نہیں اور وہ اس کام کو سنبھال نہیں سکتے اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جو خلص دوست یہاں کام کرنا چاہیں انہیں کا م کرنے کی اجازت دے دی جائے۔ایک بات میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ہم یورپ میں ایک نیا مشن کھولنا چاہتے ہیں۔ہمیں ایک نئے علاقہ کا پتا لگا ہے جس کی وجہ سے تین چار اور ملکوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے اور وہ ناروے، سویڈن اور فن لینڈ ہیں۔آگے ان کا اثر ڈنمارک اور جرمنی پر پڑتا ہے اور پھر آگے ہالینڈ پر اثر پڑتا ہے۔ہمارا ارادہ ہے کہ وہاں مشن کھولا جائے۔اس دفعہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ مشن اُن جماعتوں کے نام پر کھولا جائے جو اس کو چلانے کے اخراجات ادا کریں۔اس مشن پر انہیں نہیں ہزار روپیہ سالا نہ خرچ کا اندازہ ہے۔میں نے تجویز کی ہے کہ چندہ تحریک جدید کے علاوہ جماعت ہائے امریکہ کوشش کریں کہ اس مشن کے لیے تین ہزار روپیہ دیں۔تین ہزار روپے جماعت ہائے افریقہ، شام ، اور عدن دیں۔تین ہزار روپیہ لجنہ اماءاللہ دیں۔سات ہزار و پیہ پنجاب کی جماعتیں دیں جن کے صدر مرزا عبدالحق صاحب ہیں۔اس میں سے ضلع راولپنڈی کو میں نکال لیتا ہوں۔