خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 202

$1955 202 خطبات محمود جلد نمبر 36 طرح پیش نہیں کریں گے کہ وہ تم پر کوئی احسان کر رہے ہیں بلکہ وہ عاجزانہ نگاہوں سے تمہاری طرف دیکھیں گے اور درخواست کریں گے کہ تم اُن نذرانوں کو قبول کر لو تا کہ اُن کی اور اُن کے خاندان کی نجات ہو جائے اور اُن کے اموال میں برکت ہو۔پس اگر انجمن کا خزانہ کمزور ہے تو گھبراؤ نہیں خدا تعالیٰ تمہیں آسمان سے تنخواہ دے گا۔بالکل اُسی طرح جس طرح اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تنخواہ دی اور ان کے طفیل ہمیں بھی پالا۔اور آئندہ کے لیے بھی ہماری اُسی پر نگاہ ہے۔میں نے آج تک کسی سے نہیں مانگا۔کئی دفعہ دوستوں نے نہایت اخلاص سے کہا بھی کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ اپنی مرضی کی کوئی چیز بتا ئیں جو ہم آپ کو بطور نذرانہ پیش کریں۔لیکن میں نے ہمیشہ انکار کیا اور کہا کہ یہ تو مانگنا ہے میں ایسا نہیں کر سکتا۔ہاں جو کچھ تم خود بخو دلاؤ گے اُسے میں قبول کرلوں گا۔تم بھی اگر اخلاص سے کام لو تو تمہارے لئے بھی خدا تعالیٰ اسی قسم کے سامان پیدا کر دے گا۔تم اس بات سے مت گھبراؤ کہ لوگ دنیا دار ہو چکے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی بہت سے دنیا دار لوگ تھے۔لیکن آخر جماعت میں ایسے لوگ پیدا ہو گئے جن کے اندر یہ جوش پایا جاتا تھا کہ وہ آپ کی خدمت میں نذرانے پیش کریں اور درخواست کریں کہ آپ اُن کے لیے دعا فرمائیں تا اُن پر خدا تعالیٰ کی برکتیں نازل ہوں۔میں نے پچھلے خطبات جمعہ میں جو وقف کی تحریک کی تھی میں خوش ہوں کہ اس پر جماعت کے مختلف نو جوانوں کی طرف سے جن میں سے بعض چھوٹی تعلیم والے ہیں اور بعض بڑی تعلیم والے ہیں درخواستیں آنی شروع ہوگئی ہیں۔میں نے جو خاندانی طور پر وقف کرنے کی تحریک کی تھی اس سلسلہ میں ایک درخواست مولوی ابو العطاء صاحب کی طرف سے آئی ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ میں کوشش کروں گا کہ ہمارے خاندان میں سے کوئی نہ کوئی نو جوان وقف زندگی کے لیے آگے آتا ر ہے۔ذاتی طور پر وقف کے سلسلہ میں بھی بہت سے نو جوانوں کی طرف سے درخواستیں آئی ہیں۔ان میں سے ایک درخواست چودھری فرزند علی صاحب (جو یہاں کے جزل پریذیڈنٹ ہیں) کے ایک لڑکے کی طرف سے ہے جو اس وقت ایم۔اے کی کلاس میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ایک درخواست صالح الشبیبی انڈونیشین کی ہے جو یہاں ایک عرصہ تک تعلیم