خطبات محمود (جلد 36) — Page 204
خطبات محمود جلد نمبر 36 204 $1955 تین ہزار روپے کی رقم بلوچستان ، سرحد، اور ضلع راولپنڈی کی جماعتیں دیں۔تین ہزار روپے کی رقم متفرق احباب دیں جو مرکز میں براہ راست چندہ بھجواتے ہیں۔اس طرح امید ہے کہ ہیں اکیس ہزار روپیہ کی رقم اکٹھی ہو جائے گی۔اس مشن کے ہیڈ کوارٹر پر جو بورڈ لگایا جائے گا اُس پر یہ لکھ دیا جائے گا کہ اس مشن کو جماعت ہائے احمد یہ امریکہ ، افریقہ، شام، عدن ، لجنہ اماءاللہ ، پنجاب، سرحد، بلوچستان ضلع راولپنڈی اور متفرق احباب چلا رہے ہیں۔اسی طرح آئندہ بھی جتنے نئے مشن کھولے جائیں گے انہیں علاقہ وار تقسیم کر دیا جائے گا۔اور اُن پر اُس علاقے کا نام لکھا جائے گا جو اسے چلا رہا ہوگا ، تا کہ دوستوں کو دعاؤں کی تحریک ہوتی رہے۔یہ رقم جو میں نے مقرر کی ہے ابھی تھوڑی ہے۔لیکن مجھے یقین ہے کہ جب دوست اس نیک کام میں حصہ لیں گے تو خدا تعالیٰ ان کی کوششوں میں برکت دے گا اور جماعت کو بڑھانا شروع کر دے گا اور اس کے نتیجہ میں چندہ بھی بڑھ جائے گا۔اگر خدا تعالیٰ امریکہ کی جماعت کو بڑھانا شروع کر دے تو وہ بہت سا بوجھ اُٹھا سکتی ہے۔اگر وہاں جماعت بڑھ جائے اور اُس کی تعداد دو ہزار ہو جائے تو اُس کا چندہ دولاکھ ڈالر یعنی دس لاکھ روپے تک پہنچ سکتا ہے اور وہ بڑی آسانی سے دو تین مشنوں کا بوجھ اٹھا سکتی ہے۔اور اگر خدا تعالیٰ اُس کی تعداد پانچ چھ ہزار کر دے تو صرف امریکہ کی جماعت یورپ کے سارے مشنوں کو چلاسکتی ہے۔میں نے امریکہ کے مبلغ خلیل احمد صاحب ناصر جو آجکل یہاں آئے ہوئے ہیں سے پہلے بھی کہا ہے اور آج پھر انہیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ امریکہ کی جماعت کا چندہ بڑھانے کی کوشش کریں۔انڈونیشیا میں بھی ہماری بڑی جماعت ہے۔میں نے اپنے ایک لڑکے کو وہاں بھیجا تھا۔اور میری غرض یہ تھی کہ وہ جماعت جلد جلد ترقی کرے۔لیکن اس کی تعداد میں ابھی توقع کے مطابق زیادتی نہیں ہوئی۔جماعت بے شک بڑھی ہے لیکن بہت تھوڑی بڑھی ہے۔جماعت انڈونیشیا کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی تعداد کو بڑھانے کی کوشش کرے۔اب میں تحریک جدید کے چندہ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔چونکہ میں کمزور ہوں اس لیے میں اس چندہ کے متعلق کوئی لمبی تقریر نہیں کر سکتا۔اس چندہ کی تحریک ہر سال نومبر کے آخر میں کی جاتی ہے۔لیکن اس دفعہ نومبر کی بجائے میں آج ہی اس کی تحریک کر دیتا ہوں۔میں یہ تی