خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 20

$1954 20 خطبات محمود رہی۔میں نے اُن سے کہا کہ نئی جگہ زمین لو اور اُس کے اردگرد صرف چار دیواری بنا کر ایک کی شیڈ (SHED) بنا لو۔چنانچہ انہوں نے مارٹن روڈ پر زمین لی، اُس کی چار دیواری بنائی اور ایک شیڈ سا بنا لیا۔وہ جگہ ہال سے بہت بڑی ہے۔اب پچھلے دنوں وہاں کے دوست آئے تھے تو انہوں نے بتایا کہ وہ گورنمنٹ سے تین چار کنال زمین اور لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہی حال ربوہ کی مسجد کا ہے۔جب ہم قادیان سے نکلے ہیں اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی پر ستاون سال گزر چکے تھے اور ستاون سال کے بعد مسجد اقصٰی بھرنے لگی تھی اور کچھ لوگوں کو نماز کے وقت گلیوں میں کھڑا ہونا پڑتا تھا۔لیکن ربوہ میں آئے ہوئے ابھی ہمیں تین چار سال ہی ہوئے ہیں اور یہاں کی محلہ کی مسجد مسجد اقصٰی سے زیادہ وسیع ہے۔مگر اب بھی کئی دن ایسے آ جاتے ہیں کہ لوگ مسجد سے باہر نکل کر کھڑے ہونے پر مجبور ہوتے ہیں۔جس طرح تمہارا گھر بن جائے تو تمہیں اُس کی آبادی کا فکر ہوتا ہے، جس طرح ایک نوجوان جب اپنا گھر بنا لیتا ہے تو اُس کے دل میں خیال آتا ہے کہ اُس کی شادی ہو، شادی ہو جائے تو اُسے خیال آتا ہے کہ اُس کے بچے ہوں اور اس طرح اُس کے گھر میں روافق ہو اس طرح جب تم خدا کا گھر بناتے ہو تو خدا کے دل میں بھی یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ وہ آباد ہو۔چنانچہ وہ لوگوں کے دلوں میں تحریک کرتا ہے اور وہ سچائی کو قبول کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے گھر کی طرف بھاگے چلے آتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے اس لیے فرمایا تھا کہ وَسِعُ مَكَانَكَ 3 اپنے مکانوں کو وسیع کرو۔یعنی چونکہ میں نے تیری ترقی کا وعدہ کیا ہوا ہے اس لیے تیرا بھی فرض ہے کہ تو اپنے مکانوں کو وسیع کرے۔پس چونکہ یہ الہی وعدہ ہے اس لیے لازماً جب ہم اپنے مکانوں کو وسیع کریں گے تو اللہ تعالیٰ اور ایسے آدمی لائے گا جن سے وہ مکان آباد ہوں گے۔پھر وہ مکان وسیع کیے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ اُن کی آبادی کے لیے اور آدمیوں کو لے آئے گا۔بہر حال مساجد کی وسعت کے ساتھ ہماری جماعت کی ترقی وابستہ ہے۔جب کوئی جماعت مسجد بناتی ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے دیندار لوگ بھی پیدا کر دیتا ہے جو اس مسجد میں نماز کے لیے آتے اور اُسے آباد رکھتے ہیں۔پس تم جلدی ایک نئی مسجد بناؤ اور اتنی بڑی بناؤ کہ تم اُس کو