خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 19

$1954 19 خطبات محمود اپنی ضروریات کے لیے اتنا روپیہ خرچ کرتے ہیں کچھ خدا کے لیے بھی خرچ کریں اور مسجد کے لیے دے دیں۔اس پر وہ کچھ روپیہ دے دیتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔اگلے ہفتے پھر میں اُن کو تحریک کر دیتا ہوں اور وہ کچھ اور روپیہ دے دیتے ہیں۔اس طرح بغیر کسی بوجھ کے روپیہ اکٹھا ہو رہا ہے۔بہر حال ہم اُس وقت یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے جماعت پر بوجھ ڈال دیا ہے مگر دواڑھائی سال میں انہوں نے مسجد مکمل کر لی اور اب یہ دن ہے کہ مجھے یہ کہنا پڑا ہے کہ یہ مسجد تمہارے لیے کافی نہیں۔بہر حال مجھے تجربہ ہونے کے بعد یہ معلوم ہوا ہے کہ مسجد کے لیے کہیں نہ کہیں سے روپیہ ضرور آ جاتا ہے۔جب مسجد بنے لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ کسی شخص کے دل میں تحریک پیدا کر دیتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ پانچ سو روپیہ مجھ سے لو اور ایک کمرہ بنا لو۔دوسرے دن کسی اور کو جوش آ جاتا ہے اور وہ روپیہ پیش کر دیتا ہے۔پس تعمیر کا فکر جانے دو، زمین لو اور اُس کا نام مسجد رکھ لو۔اس کے بعد جب ہر شخص کے دل میں یہ احساس پیدا ہوگا یہ کتنی بڑی خوش قسمتی کی بات ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہونے لگا ہوں تو وہ سجد کی تعمیر کے لیے بھی روپیہ دینا شروع کر دیں گے۔مگر جیسا کہ میں نے دوستوں کو بتایا تھا یہ نئی مسجد بھی کسی وقت تمہارے لیے تنگ ہو جائے گی اس لیے تم جامع مسجد کسی کو بھی نہ کہو۔کسی دن یہ نئی مسجد بھی گھر والی مسجد بن جائے گی۔پھر اور مسجد بناؤ اور اُس کو بھی صرف مسجد کہو امع مسجد نہ کہو۔تمہیں کیا معلوم کہ خدا تعالیٰ یہاں احمدیت کو کتنی بڑی ترقی دینا چاہتا ہے۔فرض کرو تم دو یا چار کنال میں جامع مسجد بنا دو اور لاہور کے دس لاکھ آدمیوں میں سے دو لاکھ احمدی ہو جائیں تو وہ اس میں جمعہ کی نماز کہاں پڑھ سکتے ہیں۔اُن کے لیے تو پچاس ایکٹر میں جامع مسجد بنانی پڑے گی۔پس ابھی کوئی نام نہ رکھو صرف اپنی ضروریات کے لیے ایک نئی مسجد بنالو۔پھر یہ بھی میں نے دیکھا ہے کہ جب مسجدیں بنتی ہیں تو اللہ تعالیٰ جماعت کو بھی غیر معمولی طور پر ترقی دینا شروع کر دیتا ہے۔یہاں جماعت کی ترقی کی بڑی وجہ مسجد ہی ہے۔اسی طرح کراچی کی جماعت کی ترقی کی بھی بڑی وجہ اُن کی مسجد ہے۔انہوں نے ایک لاکھ روپیہ خرچ کر کے مسجد بنائی ( گو نام اُس کا ہال رکھا مگر اب وہ جگہ اُن کے لیے کافی نہیں