خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 21

$1954 21 خطبات محمود بھر نہ سکو۔بلکہ اُس کی جگہ خالی رہے تا کہ خدا کو خیال رہے کہ میں نے یہ جگہ بھرنی ہے۔پھر جب وہ بھرنے لگے تو تم ایک اور مسجد بناؤ اور وہ اتنی بڑی ہو کہ اُس میں تمہاری اس وقت کی جماعت آدھی نظر آئے۔اس پر پھر خدا تعالیٰ کو خیال پیدا ہو گا کہ جب یہ لوگ میرا اتنا بڑا گھر بنا رہے ہیں تو کیا میں ہی کمزور ہوں کہ میں اس گھر کو آباد نہ کروں۔بہر حال ہمارے لیے یہ ایک بہترین ذریعہ ہے جس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہم اپنی جماعت کو بھی ترقی دے سکتے ہیں اور پھر لوگوں کو دین کی طرف راغب کرنے ، انہیں خدا تعالیٰ کی طرف توجہ دلانے اور ان کے دلوں میں دین اور تقوی پیدا کرنے کی بھی صورت پیدا ہو گی۔پس جلدی کرو اور مسجد کے لیے زمین خریدو۔میں یہ نہیں کہتا کہ مسجد بناؤ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ جب تم نے زمین خرید لی تو تمہارے دل میں آپ ہی خیال آئے گا کہ زمین تو آ گئی ہے۔اب اس پر مکان بھی بنا لیں بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ اس سے زیادہ لطیف کھیل اور کوئی نہیں۔بچپن میں ہم ایک کھیل کھیلا کرتے تھے جس میں پہلے ایک کی جگہ پر قبضہ کر لیا جاتا تھا، پھر دوسرے کی جگہ پر۔کھیل بھی اسی قسم کا ہے۔ہم خدا کے گھر بناتے چلے جائیں اور خدا ہمارے گھروں کو آباد کرتا چلا جائے۔ہم اُس کے گھر بڑھاتے جائیں اور کہیں کہ تیرا گھر ابھی بھرا نہیں، وہ خالی پڑا ہے اور خدا ہمارے گھروں کو بھرتا چلا جائے اور کہے کہ وہ گھر تو بھر چکے اب اور گھر بناؤ تا کہ میں ان کو بھی بھروں۔جو روحانی لذت اس روحانی کھیل میں ہے وہ دنیا کے اور کسی کھیل میں نہیں اور جو روحانی سرور اس الہی دربار میں ہے وہ دنیا کے اور کسی دربار میں نہیں۔اس کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ چونکہ میرے گلے میں خرابی ہے اور تھکان بھی ہے اس لیے میرا ارادہ یہ ہے کہ میں ایک دن ٹھہر کر پرسوں صبح اتوار کو ربوہ جاؤں۔پس آج بھی میں یہاں ٹھہروں گا اور کل بھی۔پرسوں صبح ہم انشَاءَ اللہ واپس جائیں گئے۔1 : الاعراف : 32 2 : السيرة الحلبية جلد اول صفحه 570۔بیروت لبنان 2002ء : تذکرہ صفحہ 53۔ایڈیشن چہارم لمصل اح 2 مارچ 1954 ء )