خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 16

$1954 16 خطبات محمود کہ یا تو وہ آپ کی جان لینے کے درپے تھا اور یا اُس نے اپنے جوان بیٹوں سے کہا کہ تم میں کی سے ہر ایک مر جائے مگر ان کو آنچ تک نہ آئے۔تو مساجد اپنے اندر بڑی برکات رکھتی ہیں اور وہ انسان کے چھپے ہوئے جذبات اور اس کے دبے ہوئے احساست کو اُبھارتی اور نمایاں کرتی ہیں۔اسی لیے رتن باغ میں ( مگر اس طرف نہیں بلکہ دوسری طرف) میں نے لاہور کی جماعت کو تحریک کی تھی کہ اب یہاں کی مسجدی ان کی ضروریات کے لیے کافی نہیں۔انہیں کوئی اور مسجد بنانی چاہیے۔اُس وقت دوستوں نے اپنے جوش اور اخلاص میں بڑے بڑے چندے لکھوائے۔چنانچہ مجھے بتایا گیا تھا کہ اس وقت بائیس ہزار کے وعدے ہوئے اور وصولی بھی سولہ سترہ یا اٹھارہ ہزار کی ہو گئی لیکن اس میں التوا پڑتا چلا گیا اور جماعت نے زمین نہ خریدی۔اب میرے بار بار کہنے کے بعد جماعت نے اس طرف توجہ کی ہے اور زمین خریدنے کے متعلق کوشش کی جا رہی ہے۔بہر حال نمازوں کے لیے یہاں ایک وسیع مسجد کا ہونا نہایت ضروری ہے۔اب بھی تم نمازیں تو پڑھتے ہو، مگر تم نماز پڑھتے ہو گلیوں میں ، تم نماز پڑھتے ہو چھتوں پر۔اور گلیوں اور چھتوں پر نماز پڑھتے وقت تمہارے اندر خشیت اللہ پیدا نہیں ہو سکتی جو مسجد میں ہوتی ہے۔کیونکہ اسی گلی میں بچے کھیل رہے ہوتے ہیں، اسی گلی میں وہ پیشاب کر دیتے ہیں اور پھر لوگ اسی گلی میں سے جوتوں سمیت گزر رہے ہوتے ہیں۔اس وجہ سے جب تم گلی میں نماز پڑھتے ہو تو فوری طور تمہارے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت اور اُس کی خشیت کا وہ احساس پیدا نہیں ہوتا جو مسجد تمہارے اندر پیدا کرتی ہے۔تم مسجد کے ساتھ ملحق گلی میں نماز پڑھ کر اس احساس سے بیگانہ رہتے ہو لیکن جب دو قدم چل کر مسجد میں داخل ہوتے ہو تو تمہارے اندر ایک نیا احساس اور پیدا ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے خوف کا جذبہ تمہارے دل میں نمایاں نیا شعور : ہونے لگتا۔ہے۔مثلاً پہلا احساس تو تمہیں یہی پیدا ہوتا ہے کہ یہ مسجد ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم جوتا اُتار دیں۔پھر اگر تمہارے ذہن کو یہ توفیق مل جائے کہ وہ بلندی کی طرف پرواز کرے تو مسجد کو دیکھ کر تمہارے دل میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ سالہا سال اس زمین پر کھڑے ہو کر