خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 15

$1954 15 خطبات محمود فطرت کو خوب سمجھتے تھے۔وہ نہایت سنگدل بھی تھے ، وہ نہایت ظالم بھی تھے لیکن خانہ کعبہ کے پاس رہنے کی وجہ سے خشیت اللہ کی ایک چنگاری بھی اُن کے دلوں میں سلگتی رہتی تھی۔مکہ میں جو خدا تعالیٰ کے نشانات کا ظہور وہ رات دن دیکھتے تھے اُس کی وجہ سے وہ بہتے تو تھے مگر ملکہ کی رستی سے بندھے رہتے تھے۔جب وہ صحابی گئے اور انہوں نے آپ کا نام لے کر کہا کہ وہ آپ کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ میں مکہ سے چلا گیا تھا مگر طائف والوں نے مجھ سے کچھ اچھا سلوک نہیں کیا۔اب میں چاہتا ہوں کہ پھر واپس آجاؤں مگر مکہ کے قانون کے مطابق میں یہاں کے شہری حقوق سے محروم ہو گیا ہوں۔اب اس کے لیے ضروری ہے کہ مکہ کا کوئی سرپنچ مجھے پناہ دے۔کیا تم اس بات کے لیے تیار ہو کہ مجھے پناہ دو؟ تو وہ شدید دشمن اسلام جس کی دشمنی کے واقعات سے تاریخیں بھری پڑی ہیں یہ سنتے ہی کھڑا ہو گیا اور اُس نے اپنے جوان بیٹوں کو بلایا اور اُن کو یہ سارا واقعہ سنایا اور کہا کہ تلواریں اپنے ہاتھ میں لے لو اور میرے ساتھ چلو۔پھر اُس نے مکہ کے دروازہ تک آ کر آپ سے کہا کہ میں آپ کو پناہ دیتا ہوں۔آپ میرے ساتھ مکہ میں داخل ہوں۔مکہ کے لوگوں کی دشمنی کا اُس کو اندازہ تھا، اُن کی معاندانہ کارروائیوں کا اُس کو علم تھا۔وہ جانتا تھا کہ گو مکہ کے رواج کے مطابق مجھ کو یہ حق حاصل ہے کہ میں ان کو پناہ دوں مگر وہ مخالفت کی وجہ سے شاید اس دیرینہ قانون کو بھی بھول جائیں گے اور مخالفت پر آمادہ ہو جائیں گے۔چنانچہ اس نے اپنے بیٹوں سے کہا دیکھو! یہ اس وقت ہماری پناہ میں ہیں۔مجھے ڈر ہے کہ مکہ والے حملہ کریں گے۔لیکن میں وہ دن نہیں دیکھنا چاہتا کہ تم میں سے کوئی زندہ ہو اور ان تک کوئی آدمی پہنچ جائے۔تمہاری لاشوں پر۔گزرتے ہوئے کوئی شخص ان تک پہنچے تو پہنچے ورنہ ان پر کوئی آنچ نہیں آنی چاہیے۔اس طرح وہ جنگی تلواروں کے نیچے آپ کو اپنے گھر چھوڑ گیا۔2 اب دیکھو! اس واقعہ کے پیچھے کونسی روح تھی؟ روح یہی تھی کہ اُس کو اس پناہ دینے میں بھی اپنی عظمت نظر آئی اور اُس نے سوچا کہ آخر یہ یہاں کیوں آنا چاہتے ہیں؟ اس لیے کہ یہاں خانہ کعبہ ہے اور خانہ کعبہ ہمارا ہے اور ہمیں ہمیشہ خدا تعالیٰ کے نشانات دکھاتا پس خانہ کعبہ کے ساتھ اُن کے جو تعلقات تھے انہوں نے اُس کے اندر یہ نیکی پیدا کر دی ہے۔