خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 17

$1954 17 خطبات محمود خدا تعالیٰ کا نام بلند کیا گیا ہے، سالہا سال اس زمین پر خدا تعالیٰ کا ذکر کیا گیا ہے بلکہ شاید ای دو گھنٹے پہلے خدا تعالیٰ کا کوئی برگزیدہ اس جگہ کھڑا ہوا ہو اور نہ معلوم اُس نے کس کس طرح خدا تعالیٰ سے باتیں کی ہوں۔پھر اگر خدا تعالیٰ تمہیں اور زیادہ بلند پروازی کی توفیق دے تو تمہارے دل میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ بیشک میرے اندر خشوع و خضوع پیدا نہیں ہوتا، میرے اندر رقت اور سوز وگداز کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔لیکن خدا کے کئی بندے ایسے ہیں جن کے جذبات اس مقام پر آکر اتنے اُبھرے کہ وہ موم کی طرح اس کی روشنی اور جلوہ کے سامنے پکھل گئے۔ان کی ملاقات کے لیے اور ان کے ساتھ مصاحبت کرنے کے لیے اور ان کے دلوں کو مضبوط کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ اس جگہ ضرور اُترتا ہو گا۔وہ میرے لیے اُترے یا کسی اور کے لیے، بہر حال ہر نماز میں خدا تعالیٰ اُترتا ہے۔اگر میری نماز مقبول نہیں تو میرے ساتھیوں میں سے کسی کی ضرور مقبول ہو گی اور وہ اس کے لیے اس مقام پر نازل ہو گا۔اور جب خدا کسی قوم پر اُترتا ہے تو وہ مقام اپنی ذات میں بھی بہت بڑی اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔پھر اس کے دل میں خیال پیدا ہوگا کہ میں جب کبھی دتی جاتا تھا تو موٹر یا تانگہ کرایہ پر لیتا تھا اور کہتا تھا کہ مجھے دیوان خاص تک لے چلو۔اگر کوئی ناواقف مجھ سے پوچھتا کہ دیوانِ خاص میں کیا چیز ہے؟ تو میں اُسے بتاتا کہ دیوانِ خاص وہ مقام ہے جہاں جہانگیر بیٹھا کرتا تھا یہ شاہ جہاں بیٹھا کرتا تھا اور لوگ ان کے دیدار کے لیے جمع ہوا کرتے تھے۔بہر حال میں تکلیف اس لیے اُٹھاتا تھا کہ آج سے سو دو سو ، چارسو یا ہزار سال پہلے ایک محدود ملک کا بادشاہ ای کسی وقت اس جگہ بیٹھا کرتا تھا۔اگر میں اتنی تکلیف اُٹھا کر وہاں جاتا تھا اور اس لیے جاتا تھا جی کہ ایک انسان کسی کسی وقت یہاں بیٹھا کرتا تھا تو یہاں تو میرے لیے یہ موقع ہے کہ کوئی مرنے والا بادشاہ نہیں بلکہ زندہ خدا یہاں اُترا اور وہ بھی سو دو سو یا ہزار سال پہلے نہیں بلکہ ابھی دو گھنٹہ پہلے وہ یہاں اُترا تھا اور ہر روز پانچ وقت اُترا کرتا ہے۔پس میرے لیے یہ کتنی بڑی خوش قسمتی کی بات ہے۔جب میں دنیوی بادشاہوں کے دیوانِ خاص دیکھنے کے لیے تکلیف اُٹھاتا ہوں تو یہاں تو کسی تکلیف کا سوال ہی نہیں۔یہ وہ مقام ہے جہاں پانچ وقت زمین و آسمان کا خدا آسمان سے نازل ہوتا ہے۔یہ بات باہر گلی والوں کو نصیب نہیں ہو سکتی