خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 243

$1954 243 خطبات محمود کڑوی دوائیں دیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اکثر اعمال نیک نظر آنے لگ گئے۔حضرت موسی علیہ السلام کے دشمن بھی ان روحانی بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی جرات نہیں رکھتے تھے لیکن آپ کے ماننے والے دھڑتے سے ان کے مقابلہ میں کھڑے ہو گئے۔اور اگر کوئی بیمار نظر آتا تو ساری قوم اس کے پیچھے پڑ جاتی تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کی قوم بحیثیت قوم اخلاق کے ایک اعلیٰ معیار پر پہنچ گئی۔اور یہی حال حضرت عیسی علیہ السلام کا تھا اور یہی حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تھا۔یہ کہنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماننے والے سب کے سب نیک تھے ان میں خیانت، غبن اور بددیانتی کی قسم کی بُرائیاں نہیں پائی جاتی تھیں قرآن کریم کے خلاف ہے۔قرآن کریم میں صاف آتا ہے کہ آپ کے پاس منافق آتے تھے اور قسم کھا کر کہتے تھے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہے تو یہ سچی بات کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں لیکن یہ منافق جھوٹ بولتے ہیں۔2 پھر قرآن کریم میں ہی آتا ہے کہ آپ کے ماننے والے اور آپ کا کلمہ پڑھنے والے آپ کے متعلق یہ کہتے تھے هُوَ اذن 3 کہ ہم نے فلاں فعل تو نہیں کیا۔بات یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں تو ٹھیک، لیکن ہیں بھولے بھالے۔لوگ آپ کے پاس آتے ہیں اور ہمارے متعلق شکایات کرتے ہیں اور بلا تحقیق ان کی بات مان لیتے ہیں۔یہ ایک پرانا حربہ ہے جو منافق لوگ استعمال کرتے چلے آئے ہیں۔آج ہمارے خلاف بھی یہی حربہ استعمال ہو رہا ہے۔آج بھی جماعت کے منافق یہی کہتے ہیں کہ خلیفتہ اسی نہایت سادہ اور بھولے بھالے ہیں۔آپ لوگوں کی باتوں پر فوراً یقین کر لیتے ہیں۔بیوقوف مومن سمجھتے ہیں کہ یہ کتنے مخلص ہیں۔خلیفہ امسیح کا انہیں کتنا ادب ہے مگر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ یہ تو وہی بات ہے جو منافق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کے متعلق کہا کرتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں تو نیک، آپ ہیں تو اچھے مگر آپ کانوں کے کچے ہیں۔لوگ جو کچھ کہہ دیتے ہیں آپ بلا تحقیق مان لیتے ہیں۔دوسرے لفظوں میں اس کے یہ معنے ہوتے تھے کہ آپ (نَعُوذُ بِاللهِ ) کم عقل ہیں۔یہی بات اب کہی جاتی ہے کہ خلیفہ اسیح خدارسیدہ ہیں، نیک ہیں، جماعت کے خیر خواہ ہیں مگر ہیں