خطبات محمود (جلد 35) — Page 244
$1954 244 خطبات محمود سادہ اور بھولے بھالے۔یا بالفاظ دیگر بیوقوف۔لوگ آپ کو بہکا لیتے ہیں اور جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ مان لیتے ہیں۔غرض قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی منافق موجود تھے اور وہ اس قسم کی باتیں کرتے تھے۔احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص مر گیا۔آپ سے درخواست کی گئی کہ اس کا جنازہ پڑھائیں لیکن آپ نے فرمایا میں اس کا جنازہ نہیں پڑھوں گا۔یہ خائن تھا 4 حالانکہ وہ شخص جہاد کرتا ہوا مارا گیا تھا۔اب جو روحانی بیماریاں حضرت آدم علیہ السلام سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ تک سب انبیاء کے زمانہ میں رہی ہیں کونسے باپ کا بیٹا آئے گا جو اُن کی اصلاح کرے گا؟ اگر کوئی شخص ان بیماریوں کے علاج کا دعوی کرتا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔جو کام رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ کر سکے وہ کیسے کر سکتا ہے؟ پس یہ لوگ ہمارے اندر بھی موجود ہیں اور ان کی موجودگی ایسی خطرناک چیز نہیں کہ جماعت کے دوست گھبرا جائیں۔ہاں! یہ بات ضرور خطرناک ہے کہ جماعت میں سے کچھ لوگ ایسے لوگوں کی تائید میں کھڑے ہو جائیں۔مثلاً پچھلے دنوں صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر میں چار بڑی بڑی خیانتیں پکڑی گئی ہیں۔اب جہاں تک خیانت کا سوال ہے احادیث سے پتا لگتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی خائن موجود تھے اور میں اپنے علم کی بناء پر کہہ سکتا ہوں کہ خیانت کرنے والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی موجود تھے۔اور قرآن کریم کہتا ت ہے کہ یہ لوگ سب انبیاء کے زمانہ میں پائے جاتے تھے۔پس جماعت میں ان لوگوں کی موجودگی کوئی ایسی بات نہیں جو گھبرا دینے والی ہو۔بُری بات یہ ہے کہ صدر انجمن احمدیہ کے ممبروں نے ان لوگوں کے مجرم کو چھپانے کی کوشش کی اور خیال کیا کہ اگر یہ خیانتیں ظاہر ہو گئیں تو جماعت کی بدنامی ہو گی۔یہ بات نہایت خطرناک ہے۔اگر یہ عیب حضرت آدم علیہ السلام کے وقت میں موجود تھا، اگر یہ عیب حضرت نوح علیہ السلام کے وقت میں موجود تھا، یہ عیب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں موجود تھا، اگر یہ عیب حضرت موسی اور۔