خطبات محمود (جلد 35) — Page 137
$1954 137 خطبات محمود اخراجات ہی پورے ہونے میں نہیں آتے۔جب کچھ عرصہ کے بعد پوچھا جائے کہ بتائیے! بیماری دور ہوئی ہے یا نہیں؟ تو کہہ دیتا ہے کہ اب تو فلاں اخراجات آ پڑے ہیں۔جب کچھ اور انتظار کے بعد پھر چندہ مانگا جاتا ہے تو وہ گالیاں دینے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ انہیں تو اور کوئی کام ہی نہیں، ہر وقت چندہ ہی چندہ مانگتے رہتے ہیں۔اس طرح آہستہ آہستہ وہ روحانی لحاظ سے بالکل مُردہ ہو جاتا ہے۔بہر حال دوسری جماعتوں اور یہاں کی جماعت میں فرق ہے۔باہر اگر عہد یدار سُست نہ ہوں تو عموماً جماعت کے چندوں میں کمی نہیں آتی کیونکہ سب ایک ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔لیکن یہاں مختلف گروہوں کے لوگ پائے جاتے ہیں اور ان سب پر جماعت کو کنٹرول کرنا پڑتا ہے۔پس اس جگہ کی مشکلات اور باہر کی مشکلات میں فرق ہے۔لیکن جہاں اس جگہ کی مشکلات زیادہ ہیں وہاں مختلف قسم کے لوگوں کی وجہ سے کئی قسم کے تجربات حاصل کر کے مواقع بھی یہاں کی جماعت کو زیادہ حاصل ہیں۔ہمارے سامنے تو جو مختلف واقعات آتے ہیں اُن سے ہم ایک نتیجہ نکال لیتے ہیں لیکن ان کے سامنے عملی مشکلات پیش آتی ہیں۔پس اس بارہ میں جو ان کا تجربہ ہے اُس کی نوعیت بالکل اور رنگ کی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہر شخص کی بیماری اور اُس کے نقص کو مدنظر رکھتے ہوئے کی علاج نہ کیا جائے اُس وقت تک پوری کامیابی نہیں ہو سکتی۔سب لوگوں پر مجموعی نظر ڈالنے سے ہمیں یہ تو معلوم ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں میں نقائص پائے جاتے ہیں لیکن قومی اصلاح کی جد و جہد جو تمام افراد کی اصلاح کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اُس وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب ہر شخص کے حالات کا الگ الگ جائزہ لیا جائے اور اس کے مطابق اپنی کوششوں کو جاری رکھا جائے۔میں چونکہ زمیندار خاندان میں سے ہوں اس لیے مجھے زمینداری اور باغ وغیرہ لگانے کا خاص شوق ہے۔میں نے قادیان میں ایک دفعہ اپنے مالی کو بلایا اور اُسے کہا تم ایک چکر روزانہ باغ میں لگاتے ہو اور اُسے کافی سمجھتے ہو۔میری ہدایت یہ ہے کہ آئندہ جب تم چکر لگاؤ تو بیمار درختوں کے ساتھ ایک لال دیجی 5 باندھ دیا کرو۔دوسرے دن ایک کی بجائے دو چکر لگاؤ۔ایک دن اُن درختوں کے لیے جن پر لال دیجی بندھی ہو اور دوسرے اُن درختوں