خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 138

$1954 138 خطبات محمود کے لیے جن پر لال دیجی نہ ہو۔جب لال دھجی والے درخت اچھے ہو جائیں تو اُن کی دھجیاں کھولتے جاؤ اس طرح تمہیں پتا لگتا رہے گا کہ کون کون سے پودے بیمار ہیں جن کی تمہیں نگہداشت کرنی چاہیے۔اگر تم یونہی چکر لگاتے رہو گے تو بیمار پودوں کی طرف تم کوئی توجہ نہیں کرو گے اور وہ رفتہ رفتہ مر جائیں گے۔اسی طرح جماعت کے جو سُست افراد ہیں اُن کا ایک مکمل ریکارڈ جنرل سیکرٹری کے پاس ہونا چاہیے اور اسے معلوم ہونا چاہیے کہ فلاں شخص میں جھوٹ بولنے کا مرض ہے، فلاں میں نماز کی سستی کی عادت پائی جاتی ہے، فلاں چندہ میں سُست ہے، فلاں میں بدکلامی کی عادت ہے، فلاں میں مہمان نوازی کی عادت نہیں۔اور پھر کوشش کرو کہ اُن کی یہ بیماریاں دور ہو جائیں۔مولوی عبدالمالک صاحب یہاں سلسلہ کے مبلغ ہیں مگر یہاں کی جماعت اب اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ ان کے لیے کافی نہیں ہو سکتے۔میں نے جماعت والوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مرکز سے اور مبلغ منگوانے کی کوشش کریں۔اگر وہ آجائیں تو ان کی مدد سے ایسے لوگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سنائی جائیں، قرآن کریم کی آیات سے ان کو وعظ کیا جائے اور ان کی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔اس کے علاوہ تمہارا اپنا نمونہ ایسا ہونا چاہیے کہ چاہے تم زبان سے ایک لفظ بھی نہ کہو تمہارے عمل سے لوگوں کو خود بخود تبلیغ ہوتی چلی جائے۔اگر ایک احمدی رشوت نہیں لیتا، ظلم نہیں کرتا ، لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش ہے، کام میں دیانتدار ہے، محنت کا عادی ہے، قربانی اور ایثار سے کام لیتا ہے تو احراری ٹائپ کا کوئی آدمی خواہ اس کی مخالفت کرے یہ لازمی بات ہے کہ جب ترقی کا وقت آئے گا تو ای افسر اُس کی سفارش کریں گے اور کہیں گے کہ یہ بڑا محنتی اور بڑا ہوشیار ہے۔اور جب افسر اُس کی کی سفارش کریں گے تو مخالفین کا پروپیگنڈا خود بخود باطل ہو جائے گا اور لوگ سمجھیں گے کہ احمدیوں کو بلا وجہ بدنام کیا جاتا ہے ورنہ وہ بڑے محنتی اور دیانتدار ہیں۔پس اپنے کیریا اپنی فوقیت ثابت کرو اور لوگوں کو احمدیت کی طرف مائل کرو۔ނ مجھے ایک احمدی کا واقعہ معلوم ہے جو حضرت خلیفتہ المسیح الاول سنایا کرتے تھے۔آپ فرماتے تھے کہ کوئی احمدی ایسا ہی تھا جس پر جھوٹے الزام لگا لگا کے اُسے سزا دینے کی کوشش کی