خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 136

$1954 136 خطبات محمود اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اپنی اصلاح کر لے حالانکہ یہ بیوقوفی کی بات ہے۔یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ دس سال فلاں کے ڈوبنے پر گزر چکے ہیں مگر میں اب بھی اسے مصنوعی تنفس دلانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ایسے آدمی کو تم مُردہ سمجھو اور اس سے اپنے تعلقات منقطع کر لو۔بہر حال نیوی میں اگر ایک احمدی با قاعدہ چندہ دینے والا ہے تو ایک کو احمدی سمجھو۔ہو، اگر دو چندہ دینے والے ہیں تو دو کو احمدی سمجھو باقیوں کو کہو کہ تم ہمارے پاکستانی بھائی ہمارے ملکی بھائی ہولیکن احمدیت والا بھائی چارا ہمارا تمہارے ساتھ کوئی نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اخرُ الدَّوَاءِ الْكَى 4 آخری علاج داغ دینا ہوتا ہے۔یہ نہیں کہ ادھر نزلہ ہوا، کھانسی ہوئی اور اُدھر داغ دے دیا۔ہاں! جب سارے علاج ختم ہو جاتے ہیں تو پھر پلستر لگانا یا داغ دینا پڑتا ہے یا فصد میں کھولنی پڑتی ہیں۔بہر حال برسب آخری علاج ہیں۔اس سے پہلے پہلے ہمارا فرض ہے کہ ہم اصلاح کے لیے اپنی تمام کوششیں صرف کر دیں۔اگر اس کے بعد بھی ان کی اصلاح نہ ہو تو پھر ہمارا اور ان کا تعلق ختم ہو جاتا ہے۔بیشک اس کے نتیجہ میں کچھ لوگ ہم سے الگ ہو جائیں گے لیکن اس صورت میں بھی ہمیں فائدہ ہی پہنچے گا کیونکہ لوگ یہ سمجھیں گے کہ یہ لوگ مُردوں کو اپنے ساتھ نہیں رکھتے۔یہ زندوں کی جماعت ہے مُردوں کی جماعت نہیں۔کراچی کی جماعت کو اس بارہ میں بیشک مشکلات ہیں کیونکہ یہاں ہر گروپ کے لوگ جماعت کا حصہ ہیں جن کی ذمہ دار عہدیداروں کو نگرانی کرنی پڑتی ہے۔اور پھر یہاں ماحول اس قسم کا ہے کہ مختلف قسم کی سوسائٹیوں میں شامل ہونے کی وجہ سے اخراجات زیادہ ہو جاتے ہیں اور جب اخراجات زیادہ ہو جائیں تو کمزور آدمی کے لیے چندہ دینا مشکل ہو جاتا ہے اور وہ مختلف قسم کے بہانے بنانے لگ جاتا ہے۔بعض کہتے ہیں کہ ہم اپنا سارا روپیہ اپنے باپ کو بھیج دیتے ہیں اور جب باپ سے پوچھا جائے تو وہ کہتا ہے کہ اس نے تو مجھے ساری ایک پیسہ بھی نہیں دیا۔کوئی کہہ دیتا ہے کہ میں لوکل سیکرٹری کو چندہ دے دیتا ہوں۔لوکل سیکرٹری انکار کرے تو کہہ دیتا ہے کہ میں شہر کے احمدیوں کو دے دیتا ہوں اور جب دونوں طرف سے پکڑا جاتا ہے تو کہتا ہے مجھے بڑی مشکلات ہیں گھر میں ایسی بیماری ہے کہ اس کے