خطبات محمود (جلد 35) — Page 35
$1954 35 خطبات محمود برداشت کیے بغیر اور تکالیف اُٹھائے بغیر بھی ہمیں زندگی نہیں بخشے گا؟ پس یہ دو دلیلیں ہیں جن کے ساتھ تم خدا تعالیٰ کے فضل اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کو حاصل کر سکتے ہو ہو۔ان کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں جس کے ذریعہ تم خدا تعالیٰ کے فضل کو حاصل کر سکو بہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کی امید رکھ سکو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر تمہاری سفارش کریں گے تو اُن کے پاس کوئی نہ کوئی دلیل تو ہونی چاہیے جو وہ خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کر سکیں۔آپ یہ تو نہیں کہیں گے کہ میں پارٹی کا پہنچ ہوں اس لیے ان لوگوں کی شفاعت کرتا ہوں۔آپ کو خدا تعالیٰ کے سامنے کوئی نہ کوئی چیز پیش کرنی ہوگی کہ جس کی بناء پر میں ان کو اپنی پارٹی میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔اور خدمتِ اسلام کے سوا مجھے کوئی اور چیز ایسی نظر نہیں آتی جس کی بناء پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری شفاعت کریں۔بے شک جنت میں جانے کے لیے طہارتِ نفس کی بھی ضرورت ہے، اس کے لیے ایمان کی بھی ضرورت ہے، اس کے لیے خدمت خلق کی بھی ضرورت ہے لیکن باوجود اس کے ہماری کوششوں میں کمی رہ جاتی ہے۔اس کمی کو پورا کرنے کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کی ضرورت ہے۔یہ نہیں کہ فلاں شخص نے نماز نہیں پڑھی یا اُس نے زکوۃ نہیں دی اس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی سفارش کریں گے۔آپ کی شفاعت اس لیے ہو گی کہ ان لوگوں نے سارا زور لگا کر نمازیں پڑھی ہیں، سارا زور لگا کر روزے رکھے ہیں لیکن پھر بھی کچھ کسر رہ گئی ہے۔انہوں نے اچھی طرح حج کیا ہے لیکن پھر بھی اس میں کسر رہ گئی ہے۔انہوں نے پورا زور لگا کر زکوۃ دی ہے لیکن پھر بھی اس میں کچھ کسر رہ گئی ہے۔اس کسر کو پورا کرنے کے لیے میں ان کی سفارش کرتا ہوں۔انہوں نے پورا زور لگا کر اعمالِ صالحہ کیسے ہیں لیکن پھر بھی کچھ کسر رہ گئی ہے۔آپ رحیم و کریم ہیں آپ یہ کسر پوری کر یں۔پس خدا تعالیٰ سے شفاعت کرنے کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی چیز تو ہونی چاہیے کہ یہ شخص اخلاص سے کام کر رہا تھا لیکن اس کی کوششوں میں کمی رہ گئی آپ اس کمی کو پورا کر دیں۔تم جب کسی سے کہتے ہو کہ میرا فلاں کام کر دو یا کسی۔