خطبات محمود (جلد 35) — Page 34
$1954 34 خطبات محمود تو تم اپنے بھائی بندوں کے فائدہ کے لیے دیتے ہو۔صرف ایک چیز ہے جس کو تم خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کر سکتے ہو اور کہہ سکتے ہو کہ اے خدا! ہم نے تیری خاطر یہ کام کیا۔ہم پاکستان میں رہتے تھے، تہبند باندھتے تھے، پھٹی ہوئی پگڑیاں پہنتے تھے، کھانے کو پیٹ بھر کر بھی نہیں ملتا تھا مگر باوجود ان سب تکلیفوں کے ہم نے محض تیرے نام کو بلند کرنے کے لیے چندے دیئے۔یہی وہ چیز ہے جس کو قیامت کے دن اپنی نجات کی خاطر تم خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کر سکتے ہو۔اور خدا تعالیٰ جو عدل و انصاف کا منبع ہے تمہیں یہی کہہ سکتا ہے کہ تم نے تکلیفیں اُٹھا کر میرے نام کو بلند کیا تھا۔اب میں اس جہاں میں تمہارے کام کو بلند کروں گا۔پھر یہی وہ چیز ہے جسے تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر سکتے ہو اور کہہ سکتے ہو کہ يَا رَسُولَ اللہ ! ہم نے آپ کے لائے ہوئے دین کی تبلیغ کی ہے۔اس لیے آپ خدا تعالیٰ کے پاس ہماری شفاعت کریں۔پس اللہ تعالیٰ کے فضل اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کو کھینچنے کے لیے تبلیغ اسلام کے سوا اور کوئی چیز نہیں۔اور دنیا میں سب سے مقدم ہے یہی عمل اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔وَجَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِير ا ح که تو قرآن کریم کو لے کر جہاد کبیر کر۔پس سب سے بڑا عمل یہی ہے کہ تم قرآن کریم کے ساتھ جہاد کبیر کرو۔اگر تم سمجھتے ہو کہ تم نماز اور روزہ سے جنت لے لو گے تو تمہاری مرضی۔لیکن اگر تم سمجھتے ہو کہ جنت کو حاصل کرنے کے لیے خدا تعالیٰ کے فضل کی ضرورت ہے تو اُس کا فضل اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے کہ تم تحریک جدید میں حصہ لو۔تکالیف اور مشکلات آتی ہیں تو آنے دو لیکن تبلیغ کو نہ چھوڑو۔تا کہ نجات تمہارا دامن نہ چھوڑے اور تا تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دعوی سے کہہ سکو کہ ہم آپ کی شفاعت کے مستحق ہیں۔ہم نے آپ کے لائے ہوئے دین کو جہنم سے نکالا ہے یا آپ ہمیں جہنم سے نہیں نکالیں گے یا تم خدا تعالیٰ سے یہ کہہ سکو کہ ہم نے تیرے نام کو دنیا میں روشن کرنے کے لیے فاقے بھی برداشت کیسے ہیں لیکن تجھے فاقے برداشت کرنے کی ضرورت نہیں۔ہم نے تکالیف برداشت کر کے تیرے دین کو زندہ کیا ہے اب ہمیں زندگی دینے کے لیے تجھے تکالیف برداشت کرنے کی ضرورت نہیں۔پھر کیا تو فاقے