خطبات محمود (جلد 35) — Page 36
$1954 36 36 خطبات محمود سفارش کرواتے ہو تو ساتھ ہی یہ دلیل دیتے ہو کہ فلاں وجہ ہے جس کی بناء پر مجھے یہ حق حاصل ہے۔پس اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے پاس شفاعت کے لیے جائیں گے تو آپ کے پاس کوئی نہ کوئی دلیل ہونی چاہیے جس کو پیش کر کے وہ خدا تعالیٰ شفاعت کر سکیں۔اور وہ یہی ایک چیز ہے کہ ہم نے خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کر کے اسے زندہ کیا تھا اب وہ ہمیں زندہ کرے۔ہم نے خدا تعالیٰ سے سودا کیا تھا سو ہم نے اپنی شرط پوری کر دی اب وہ اپنی شرط پوری کرے۔یہی ایک دلیل ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کر سکتے ہیں اور اس کا فضل حاصل کر سکتے ہیں۔پس مت سمجھو کہ یہ کوئی معمولی کام ہے۔یہ مت سمجھو کہ اسے نظر انداز کر کے تم اپنی روحانیت کو سلامت رکھ سکتے ہو یا قیامت کو خدا تعالیٰ کے فضلوں کا مطالبہ کر سکتے ہو۔خدا تعالیٰ کے فضلوں کا مطالبہ کرنے کے لیے کسی غیر معمولی چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔اپنے رستہ سے ہٹ کر کوئی چیز ہے جو انسان کو خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنا دیتی ہے اور یہ کام یعنی خدمت اسلام رستہ سے ہٹ کر ہے۔تم کہہ سکتے ہو کہ اے خدا! باقی کام تو ہم اپنے نفسوں کے لیے کرتے رہے ہیں لیکن یہ کام ہم محض تیرے لیے کرتے رہے ہیں اور اُن لوگوں کے لیے کرتے رہے ہیں جو دوسرے ممالک میں رہتے تھے۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھے۔اسے کوشش کرنی چاہیے کہ قربانی کے لیے چھلانگیں مار کر آگے آئے تا کہ ہم جلد سے جلد اسلام کی اشاعت کر سکیں۔اب دنیا کنارے پر لگ چکی ہے۔اسے صرف ایک ٹھوکر کی ضرورت ہے۔طبائع میں سلامت روی پیدا ہو چکی ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ دنیا دہریت اور بے دینی کی طرف جا رہی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ دہریت اور بے دینی کی طرف نہیں جا رہی بلکہ عقل کی طرف جا رہی ہے۔پہلے لوگ مولویوں اور پنڈتوں سے سُن کر مذہبی باتیں مان لیتے تھے۔اگر پنڈت کہہ دیتے تھے کہ خدا تعالیٰ دنیا میں آ کر ہمارے کاموں میں شریک ہو جاتا ہے تو وہ آمَنَّا وَصَدَّقْنَا کہہ دیتے تھے۔اگر پنڈت کہتے کہ خدا تعالیٰ بُھوں میں آ جاتا ہے اور ہم سے باتیں کرتا ہے تو وہ یہ باتیں مان لیتے تھے۔اگر پنڈت کہتے کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ تم اس کے خاص لوگوں میں سے ہوتم دوسرے لوگوں کو