خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 162

$1954 162 خطبات محمود پیدا ہوتی ہے تو میاں کہتا ہے کہ نا معلوم وہ کونسا منحوس دن تھا جس دن میری شادی ہوئی۔دوسرے دن خوش ہوتا ہے تو اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تم سے ہی تو میرے گھر کی رونق ہے۔تم تو میرے دل کا چین اور سرور ہو۔قمیص پہنتے وقت ذرا گہنی پھنس جائے تو انسان گالیاں دینے لگ جاتا ہے کہ یہ کمبخت کیسی گندی قمیص ہے ذرا بھی اچھی سلائی نہیں ہوئی۔مگر پھر اُسی قمیص کو کوئی پھاڑنے لگے تو برداشت نہیں ہو سکتا۔انسان لڑنے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تو بڑی اعلیٰ درجہ کی قمیص ہے۔جوتا چھنے لگے تو انسان اُسے گالیاں دینے لگ جاتا ہے۔ٹھیک ہے جائے تو کہتا ہے یہ تو پاؤں میں خوب فٹ آتا ہے۔غرض خوبیاں دیکھنے والے کو خوبیاں نظر آتی ہیں اور بُرائی دیکھنے والی آنکھ کو ہمیشہ بُرائی نظر آتی ہے۔ہو حضرت عیسی علیہ السلام ایک دفعہ بازار سے گزر رہے تھے کہ راستہ میں ایک گتے کی لاش نظر آئی۔حواریوں نے ناک پر اپنے رومال رکھ لیے اور کہا یہ کیسی گندی چیز ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام نے اُس کے دانتوں کی طرف دیکھا اور فرمایا ”مگر دیکھو نا! اس کے دانت کتنے خوبصورت ہیں اس رنگ میں انہوں نے اپنے حواریوں کو بتایا کہ یہ ساری چیزیں نسبتی ہوتی ہیں۔ایک نقطہ نگاہ سے انسان کسی چیز کو دیکھتا ہے تو اُسے بُری نظر آتی ہے دوسرے نقطہ نگاہ سے اُس چیز کو دیکھتا ہے تو اُسے اچھی نظر آتی ہے۔غرض نسبت کے لحاظ سے بڑا فرق پڑ جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ عائشہ ! آج تم کچھ خفا معلوم ہوتی ہو۔انہوں نے کہا میں ہوں تو خفا مگر آپ کو کس طرح پتا لگ گیا؟ فرمانے لگے میں کچھ عرصہ سے تاڑ رہا ہوں کہ جس دن تم خوش ہوتی ہو اُس دن تم کہتی ہو خدائے محمد کی قسم! یہ بات یوں ہے۔اور جس دن تم خفا ہوتی ہو اُس دن کہتی ہو خدائے کی ابراہیم کی قسم! یہ بات یوں ہے۔آج تم نے خدائے ابراہیم کے الفاظ استعمال کیسے تھے جس کی سے میں سمجھ گیا کہ تم کچھ ناراض ہو۔حضرت عائشہ نے کہا ٹھیک ہے یہی بات ہے۔میں کسی بات پر غصہ میں آگئی تھی۔5 اب نہ ابراہیم میں کوئی خرابی تھی کہ حضرت عائشہ بعض دفعہ آپ کا نام نہ لیتیں اور نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کوئی نقص تھا کہ جس کی وجہ۔حضرت عائشہ ناراضگی کی حالت میں خدائے محمد کی قسم کھانے سے ہچکچاتیں۔صرف اتنی بات تھی ނ