خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 161

$1954 161 خطبات محمود ظاہر نہیں کرتا۔اور جب وہ ظاہر کرتا ہے تو تمہارا کیا حق ہے کہ تم یہ کہو کہ زمانہ بُرا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے صاف پتا لگتا ہے کہ کسی دن کو بُرا کہنا ی در حقیقت خدا تعالیٰ کو بُرا کہنا ہے۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ فلاں دن بُرا ہے وہ دوسرے الفاظ میں اس امر کا اظہار کرتا ہے کہ نَعُوذُ بِاللهِ خدا بُرا ہے کیونکہ وہ دن خدا نے بنایا ہے کسی اور نے نہیں بنایا۔اگر ایک سیر دودھ میں کچھ چھینٹے پیشاب کے پڑے ہوئے ہوں تو تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اب وہ دودھ پینے کے قابل ہے۔تمہیں بہر حال سارے دودھ کو گندا کہنا پڑے گا۔اس کی طرح جو شخص یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی کچھ صفات ایسے دن میں ظاہر ہوئیں جو منحوس تھا تو دوسرے الفاظ میں وہ اس امر کا اظہار کرتا ہے کہ نَعُوذُ بِاللهِ خدا تعالیٰ کی تمام صفات منحوس ہیں۔اور ایسا کہنا بدترین کفر ہے۔کوئی دہر یہ بھی ایسی بات نہیں کہہ سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ کام کی رغبت پیدا کرنے اور قوم کی ہمت بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنا اچھے سے اچھا نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کریں۔اور بجائے یہ کہنے کے کہ زمانہ بُرا ہے اُن کو اس امر کی طرف توجہ دلائیں کہ زمانہ ترقی کی طرف دوڑتا چلا جا رہا ہے تم بھی آگے بڑھو اور اس دوڑ میں شامل ہو کر دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش کرو۔مگر آجکل لوگ بات شروع کرتے ہی کہنے لگ جاتے ہیں کہ کیا بتائیں زمانہ بہت بُرا ہے۔تم لائبریریوں میں آج سے پانچ سو سال پہلے کی لکھی ہوئی کتابیں نکال کر پڑھو تو اُن میں بھی یہی لکھا ہو گا کہ آجکل کا زمانہ بہت بُرا ہے۔آج سے تیرہ سو سال پہلے کی کتابیں نکال کر دیکھو تو اُن میں بھی یہی لکھا ہوگا کہ یہ زمانہ بہت بُرا ہے۔یہودیوں کی کتابیں نکال کر دیکھ لو تو اُن میں بھی یہی لکھائی ہوگا کہ یہ زمانہ بہت بُرا ہے۔اس میں مسیح جیسے گندے لوگ پیدا ہو گئے ہیں۔عیسائیوں کی کتابیں پڑھ لو تو ان میں بھی یہی لکھا ہوگا کہ یہ زمانہ بہت بُرا ہے۔اس میں ہر قسم کے گندے لوگ پیدا ہو گئے ہیں۔غرض زمانہ کو بُرا کہنے والے آج ہی نہیں ہر زمانہ میں پائے جاتے رہے ہیں۔مگر اچھا کہنے والے بھی ہمیں ہر زمانہ میں نظر آتے ہیں۔در حقیقت ہر شخص کی اپنی اپنی ذہنیت ہوتی ہے۔کسی وقت اُسے ایک چیز اچھی نظر آتی ہے اور کسی وقت وہی چیز اُسے بُری نظر آنے لگتی ہے۔میاں بیوی کو دیکھ لو صبح وہ پیار کر رہے ہوتے ہیں اور شام کو کسی بات پر رنجش