خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 163

$1954 163 خطبات محمود کہ جب وہ غصہ میں آتیں تو خدائے محمد کی قسم کھانے کی بجائے خدائے ابراہیم کی قسم کھانے کی لگ جاتیں۔تو انسان کو چاہیے کہ اُسے دنیا میں جس قدر چیزیں نظر آتی ہیں اُن کو وہ زیادہ سے ہے زیادہ بہتر محسوس کرے، اُن کو زیادہ سے زیادہ اپنے لیے رحمت اور انعام سمجھے۔پھر وہی چیز میں اُس کے لیے تسلی اور تسکین کا موجب بن جائیں گی۔اور اگر وہ اس نقطہ نگاہ سے نہیں دیکھے گا تو بڑی سے بڑی نعمت بھی اس کے لیے زحمت اور لعنت کا موجب بن جائے گی۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس ایک دفعہ کسی شخص نے شکایت کی کہ باورچی چوری کرتا ہے۔وہ آپ کھانا کھا لیتا ہے تو اس کے بعد آٹھ دس روٹیاں پنے گھر لے جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس شکایت کرنے والے دوست سے کہا کہ آپ کی شکایت تو میں نے سن لی ہے لیکن کبھی آپ نے یہ بھی سوچا کہ ایک روٹی کے لیے یہ دو دفعہ تھور میں جھکتا ہے۔سخت گرمی میں ہم نے اپنے دروازے بند کیے ہوئے ہوتے ہیں، پردے لٹک رہے ہوتے ہیں، دستی پنکھے ہمارے ہاتھوں میں ہوتے ہیں اور یہ تنور میں گھسا جا رہا ہوتا ہے۔آخر یہ بھی ہماری طرح ہی اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ ہے۔ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ کیوں سلوک نہ کیا اور اس کے ساتھ کیوں کیا؟ آخر اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک رنگ میں سزا تو مل رہی ہے۔اِسے اور کیا سزا دلانا چاہتے ہیں؟ تو اچھا آدمی ہمیشہ اچھے پہلو کو دیکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام۔شکایت کرنے والے کو اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ سزا تو اُسے روٹیاں چرانے سے بھی پہلے مل جاتی ہے کیونکہ ایک ایک روٹی کے لیے یہ دو دو دفعہ تنور میں اپنا سر جھکاتا ہے۔پھر اس کی تعلیم اعلیٰ نہیں۔اگر تعلیم اچھی ہوتی تو لازماً اس کے اخلاق بھی اچھے ہوتے اور اچھا کاروبار اختیار کرتا۔جب ان میں سے کوئی بات بھی اسے حاصل نہیں تو اس پر اور کیا ناراض ہوتے ہو۔ایسے شخص کو مارنا یا سزا دینا تو ایسا ہی ہے جیسے کہتے ہیں ”مرے کو مارے شاہ مدار“۔غرض اس واقعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظر اسی طرف گئی کہ ہماری موجودہ حالت خدا تعالیٰ کے انعاموں میں سے ایک بہت بڑا انعام ہے۔اور اُس کے لیے وہی سزا کافی سے