خطبات محمود (جلد 35) — Page 111
$1954 111 خطبات محمود بل ہو جاتے ہیں۔پھر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کاموں میں انسانی عقل اور تدبیر کا بھی دخل ہے۔ان کے بیٹے کو اگر کوئی تکلیف ہوتی ہے تو وہ ڈاکٹر سے علاج کراتے ہیں اور جہاں تک علم طب نے ترقی کی ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔یہ لوگ دوسروں سے آرام میں رہتے ہیں اور جہاں انسانی علم نے کوئی دوا ایجاد نہیں کی وہاں یہ لوگ شخصی موت تو مر جاتے ہیں لیکن قومی زندگی کا موجب بن جاتے ہیں۔کیونکہ جس قوم میں یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے کہ ہم نے فلاں مرض کا علاج ایجاد نہیں کیا حالانکہ خدا تعالیٰ نے یہ کام ہمارے سپرد کیا ہوا ہے تو وہ اُس کا علاج تلاش کرتی ہے اور کوئی نہ کوئی دوائی ایجاد کر لیتی ہے۔اس طرح جو شخص علاج میسر نہ آنے کی وجہ سے مرجاتا ہے وہ نئی دوا ایجاد کروانے کا موجب ہو جاتا ہے۔اس طرح مرنے والا شخصی موت تو بیشک مر جاتا ہے لیکن قومی زندگی کا موجب ہو ہے جاتا ہے۔مثلاً کینسر ہے۔اس کا پہلے سے کوئی علاج نہیں تھا۔اس کا علاج نکال لیا گیا ہے اور اس علاج کے ذریعہ کینسر کے پندرہ بیس فیصدی مریض ٹھیک بھی ہو نے لگ گئے ہیں۔کچھ عرصہ کے بعد ممکن ہے کہ سائنس اس قدر ترقی کر جائے کہ کینسر ایک معمولی مرض بن کے رہ جائے۔غرض قانونِ قدرت نے بعض کام ہمارے سپرد کیے ہیں اور ہم اپنی تدابیر کے ذریعہ ان کو بہتر طور پر سرانجام دے سکتے ہیں۔اگر ہم وہ کام نہ کر سکتے تو خدا تعالیٰ ہمارے سپرد وہ کام نہ کرتا۔خدا تعالیٰ انسان کے سپر د وہی کام کرتا ہے جس کا مادہ اُس میں موجود ہوتا ہے اور ایسی تمام چیزیں اس نے انسان کے اختیار میں دے دی ہیں۔اسی وجہ سے دنیا میں نئی نئی وی ایجادات ہو رہی ہیں اور سائنس دن بدن ترقی کر رہی ہے۔کسی وقت اسلامی حکومت کے زمانہ میں بھی یہی حالت تھی۔مسلمان علماء دن رات ایجادات میں لگے رہتے تھے۔مثلاً طب ہے۔مسلمانوں نے اسے کمال تک پہنچایا اور آج بھی یورپین طب کے مقابلہ میں ہماری طب کو بعض باتوں میں امتیاز حاصل ہے۔سرجری میں بیشک یورپین طب نے کمال حاصل کر لیا ہے لیکن علاج کے سلسلہ میں ہماری طب کو بعض باتوں میں فوقیت حاصل ہے اور یہ مسلمان علماء کی محنت کا نتیجہ ہے کہ ہماری طب بعض باتوں میں آجکل کی طب پر بھی فوقیت رکھتی