خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 110

$1954 110 خطبات محمود میل کے فاصلہ سے مسلمان فوج کے پر نچے اُڑانے شروع کیے۔مولوی باہر نکلے اور آیات کی قرآنیہ پڑھتے ہوئے دشمن کی طرف بڑھے۔دشمن نے جب دیکھا کہ پاگلوں کا ایک گروہ ہاتھوں میں تسبیجیں پکڑے آگے بڑھ رہا ہے تو اس نے ایک گولہ ان پر پھینکا۔اس پر وہ سحر سحر کرتے ہوئے پیچھے کی طرف بھاگے اور بادشاہ کے پاس آکر کہا یہ تو سحر ہے۔آیات قرآنیہ بھی اس پر اثر نہیں کرتیں۔اب اس فوج کو تم خود سنبھالو۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہی بخارا جو مسلمانوں کی ایک مضبوط سرحدی چوکی تھی آج عیسائیت کا مرکز بنا ہوا ہے۔اب اس جگہ سے کمیونزم دنیا پر حملہ کر رہا ہے۔پس تم یاد رکھو! کہ جو چیزیں خدا تعالیٰ نے تمہارے سپرد کی ہیں وہ تم نے ہی کرنی ہیں۔ان کے متعلق تو کل کرنا اور اس کا نام خدا تعالیٰ کی مدد رکھنا بالکل جھوٹ ہے۔یہ ایسا ہی ہے جیسے بعض لوگ جنہیں کام کرنے کی عادت نہیں ہوتی جب اُن سے پوچھا جائے کہ فلاں کام کیسے ہو گا؟ تو وہ کہہ دیتے ہیں آپ کی دعا سے ہی یہ ہو گا۔ایسا ہی ایک کوتاہ عقل میرے پاس سندھ کی زمینوں پر کام کرتا ہے۔اُس کی عادت ہے کہ جو بات میں کرتا ہوں وہ کہتا ہے کہ آپ کی دعا سے یہ کام ہو گا۔میں نے اس دفعہ اُس سے کہا کہ یہ کام تم نے ہی کرنا ہے اور اگر تم نے یہ کام نہ کیا تو فصل کا بیڑا غرق ہو جائے گا میری دعا نے کچھ نہیں کرنا۔خدا تعالیٰ نے یہ کام تمہارے سپرد کیا ہے اور تم نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ میں نے کچھ نہیں کرنا آپ کی دعا سے سب کچھ ہو گا۔اس لیے کام کا بیڑا غرق ہو جائے گا۔چنانچہ واقع میں کام کا بیڑا غرق ہو گیا۔حقیقت یہ ہے کہ لوگوں نے مختلف نظریے بنائے ہوئے ہیں۔مثلاً انفرادی زندگی ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا۔اور جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ بالعموم فاقوں مرتے ہیں نہ اُن کے تن پر کپڑا ہوتا ہے اور نہ انہیں پیٹ بھرنے کو کچھ میسر ہوتا ہے۔پھر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کہتے تو یہ ہیں کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا لیکن اگر ساتھ ہی کوئی بات ہو جائے تو وہ کہتے ہیں یہ جنوں، بھوتوں یا دیویوں کی وجہ سے ہو گیا ہے۔اتفاقی حادثے کے طور پر اُن کے بعض کام ہو جاتے ہیں لیکن جہاں عمل کی ضرورت ہوتی ہے یہ لوگ