خطبات محمود (جلد 35) — Page 112
خطبات محمود 112 $1954 پھر اس کے اوپر ایک اور گروہ ہے جو دنیوی تدابیر کے ساتھ ساتھ دعا کو بھی اہمیت دیتا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ جہاں انسانی عقل رہ جائے وہاں خدا تعالیٰ سے دعا کے ذریعہ استمداد کی جائے تو کام میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔یہ لوگ اور بھی محفوظ ہیں۔لیکن ایک موقع ایسا بھی آتا ہے کہ خدا تعالیٰ انسان کو کہتا ہے کہ اب تیری زندگی دنیا میں بیکار ہے۔اب تو میرے پاس آجا۔یہاں نہ احتیاط اور پر ہیز کام کرتا ہے نہ دعا کام کرتی ہے۔انسانی تدابیر بھی تمام کی تمام بیکار ہو کر رہ جاتی ہیں اور دعا بھی کوئی نتیجہ پیدا نہیں کرتی۔یہی حال قومی زندگی کا ہے۔اس میں بھی بعض باتیں خدا تعالیٰ نے اپنے قبضہ میں ہیں اور بعض باتیں اس نے انسانوں کے سپرد کر دی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب دعوای فرمایا تو کفار نے آپ کا مقابلہ شروع کر دیا۔انہوں نے آپ پر حملے کیے اور ہر طرح سے ایذا دہی شروع کر دی تو بعض موقع پر آپ نے یہ کہا کہ تم اپنی مظلومی کا اعلان کرو اور ماریں کھاتے جاؤ۔پھر ایک وقت پر جا کر آپ نے یہ تجویز کی کہ تم حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلے جاؤ۔پھر ایک موقع پر آپ نے مدینہ جانے کی اجازت دے دی اور پھر بعد میں خود بھی ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے۔اور جب دشمن پھر بھی ایذا دہی سے باز نہ آیا تو آپ نے خدا تعالیٰ سے حکم پا کر صحابہ کو کفار سے لڑنے کا حکم دیا۔گویا آپ نے خدا تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق مختلف مواقع پر مختلف قسم کے احکام صحابہ کو دیئے اور مختلف تدابیر سے کام لیا۔اگر کوئی قوم ان تدابیر سے کام نہیں لیتی تو وہ زندہ نہیں رہ سکتی۔جب آپ نے صحابہ سے صبر کرنے کو کہا اُس وقت اگر صبر نہ کیا جاتا تو ظلم اور بڑھ جاتا۔پھر جب آپ نے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا تو اگر صحابہ ہجرت کر کے حبشہ نہ چلے جاتے تو چونکہ مکہ میں مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی تھی اس ترقی کو دیکھ کر دشمن کا غصہ اور بڑھ جاتا۔جب دشمن کی اپنے مد مقابل کو حقیر اور ذلیل سمجھتا ہے تو وہ اس کی پروا نہیں کرتا۔لیکن جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے اور ممکن ہے کہ ایک دن اس کی طاقت اتنی بڑھ جائے کہ وہ اس کا مقابلہ نہ کر سکے تو وہ اس کی برداشت نہیں کر سکتا۔کفار کی ایذارسانی کے باوجود مسلمان مکہ میں بڑھنے لگے اور مکہ والے خار کھانے لگے تو خدا تعالیٰ سے حکم پا کر