خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 89

خطبات محمود 89 99 $1954 گر کر اُسے ہلاک کر دے۔ممکن ہے پتھر چھت پر سے گرے اور وہ کسی انسان کو نہ لگے یا و کسی انسان کو لگے مگر اُسے ایسی ضربات نہ آئیں جن کے نتیجہ میں اس کی موت واقع ہو۔لیکن ان اگر کوئی رائفل کا نشانہ بنا کر گولی چلاتا ہے تو چونکہ اس میں ارادہ شامل ہوتا ہے اس لیے اس میں موت کا بہت زیادہ احتمال ہوتا ہے۔پس انسان جب کسی کو مارتا ہے تو وہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے کیونکہ اس میں اس کے مارنے کی نیت اور ارادہ بھی ہوتا ہے۔بیماری کا علاج کرو اور علاج اس کے مطابق ہو تو وہ ہٹ جائے گی لیکن کسی انسان کو ہٹانا چاہو تو وہ نہیں ہٹے گا۔تم ایک طرف سے ہٹاؤ گے تو وہ دوسری طرف چلا جائے گا۔تم اُدھر سے ہٹانے کی کوشش کرو گے تو وہ تیسری طرف چلا جائے گا کیونکہ اُس کی نیت مارنے کی ہوتی ہے اور وہ اس کے لیے ہر ڈھنگ اور طریق اختیار کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے قائم کردہ جماعتیں جب مخالفت کے طوفان سے بچتی ہیں تو وہ باوجود دشمن کے ارادہ اور نیت کے بچتی ہیں اس لیے یہ نشان بہت بڑا ہوتا ہے۔اور جب انسان کے سامنے اس قدر بڑے نشانات آئیں تو وہ خدا تعالیٰ کو کیوں یاد نہ کرے گا۔جب سے دنیا قائم ہوئی، خدا تعالیٰ کی طرف سے قائم کردہ کوئی جماعت ایسی نہیں گزری جسے خدا تعالیٰ نے شیر کے منہ سے نکال کر بچایا نہ ہو۔شیر کے منہ سے انسان کا بچ جانا ممکن ہے لیکن جس قسم کے فتنوں سے خدا تعالیٰ اپنی جماعتوں کو بچاتا ہے بظاہر اُن سے بیچ نکلنا مشکل ہوتا ہے لیکن الہی سنت یہی ہے کہ وہ اپنی جماعتوں کو اس قسم کے خطرناک مصائب میں ڈال دیتا ہے اور پھر ان سے محفوظ کر لیتا ہے اور اس طرح لوگوں کو عظیم الشان نشان دکھاتا ہے۔حضرت نوح کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا، حضرت ابراہیم کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا، حضرت موسقی کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا ، حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا۔ان کے علاوہ تمام انبیاء کے زمانہ میں چاہے اُن کا ذکر قرآن کریم میں ہوا ہے یا نہیں ہوا ایسا ہی ہوا۔جن قوموں کے نام لے کر خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ذکر نہیں کیا صرف یہی کہہ دیا ہے کہ ہر قوم میں میرے رسول آئے ہیں 1 اُن کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا۔مثلاً تم کہہ سکتے ہو کہ یہودیوں کا یہ خیال تھا کہ کوئی شخص جب خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے تو اُس کی جماعت ؟