خطبات محمود (جلد 35) — Page 368
$1954 368 خطبات محمود انسان خدا تعالیٰ کا آئینہ تو ہوتا ہے لیکن جس طرح شیشہ کے کارخانہ میں کوئی آئینہ اچھا بن جاتا ہے اور کوئی آئینہ رڈی بن جاتا ہے۔اسی طرح قانونِ قدرت کے کارخانہ میں کوئی انسان اچھا بن جاتا ہے اور کوئی خراب بن جاتا ہے۔اگر تم اپنی ذمہ داری کو سمجھ جاؤ تو میں سمجھ لوں گا کہ تم قربانی کو ظلم نہیں سمجھتے۔بلکہ وہ تمہیں تمہاری نسل اور قوم کو زندہ رکھنے کا ایک ہی ذریعہ ہے۔اگر تم قربانی کرنے لگ جاؤ تو تم ، تمہارا ملک اور تمہاری قوم محفوظ ہو جاتی ہے۔اس تمہید کے بعد میں تحریک جدید کے اکیسویں اور گیارھویں سال کا اعلان کرتا ہوں۔مجھے اس بات کی خوشی ہوئی ہے کہ تحریک جدید کے پہلے دور والوں نے ایک حد تک قربانی کی ہے لیکن افسوس کہ دفتر دوم ابھی اس معیار تک نہیں پہنچا۔اعدادو شمار سے میں ان کی نسبت بیان کرتا ہوں۔دور اول کے بیسویں سال کے گل وعدے دولاکھ چار ہزار کے تھے۔ایک وقت میں وہ دولاکھ پچاس ہزار تک بھی پہنچ گئے تھے۔فرق صرف اس وجہ سے پڑا ہے کہ پہلے ہندوستان اور پاکستان دونوں کا چندہ اس میں شامل تھا لیکن اب ہندوستان کا چندہ الگ ہو گیا ہے۔تمہیں پینتیس ہزار کے قریب وعدے ہندوستان کی جماعتوں کے ہو جاتے ہیں۔دوسرے کمی اس طرح واقع ہوئی کہ انیس سال ختم ہونے پر میں نے ایسے لوگوں کو جنہوں نے دورِ اول میں اپنے او پر غیر معمولی مالی بوجھ ڈالا تھا اجازت دی تھی کہ وہ اگر اپنے وعدوں کو کم کرنا چاہیں تو کہ لیں۔اس پر بعض لوگوں نے اپنے وعدے کم کر دیئے لیکن اکثر حصہ نے باوجود اجازت کے وعدوں میں کمی نہیں کی بلکہ بعض نے حسب سابق اپنے وعدوں میں زیادتی کی تھی۔بہر حال دفتر اول کے کل وعدے دولاکھ چار ہزار کے تھے جن میں سے ایک لاکھ چوبیس ہزار کے وعدے وصول ہوئے ہیں باقی اسی ہزار کے وعدے وصول نہیں ہوئے۔گویا ساٹھ فیصدی کے قریب چندہ وصول ہوا ہے اور چالیس فیصدی کے قریب بقایا ہے۔لاہور شہر کی وصولی اور بقائے برابر ہیں یعنی پچاس فیصدی وعدے وصول ہوئے ہیں اور پچاس فیصدی بقایا ہے۔لاہور کو نکال کر باقی پنجاب نے پینسٹھ فیصدی وعدے ادا کر دیئے ہیں۔صوبہ سرحد نے بھی پینسٹھ فیصدی وعدے ادا کیے ہیں۔ریاست بہاولپور نے تینتیس فیصدی وعدے ادا کیے ہیں۔