خطبات محمود (جلد 35) — Page 367
$1954 367 خطبات محمود ہاتھ میں ایک آئینہ ہے جسے میں سامعین کو دکھاتا ہوں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اور لوگ کی بھی ہیں۔مگر نظر نہیں آتے۔گویا ملائکہ یا اعلیٰ درجہ کے لوگ ہیں جو نظروں سے غائب ہیں۔میں انہیں وہ آئینہ دکھا کر کہتا ہوں کہ خدا کے نور اور انسان کی نسبت ایسی ہے جیسے آئینہ کی اور انسان کی۔آئینہ میں انسان اپنی شکل دیکھتا ہے اور اُس میں اُس کا حسن ظاہر ہوتا ہے اور وہ اُس کی خوب قدر کرتا ہے اور سنبھال سنبھال کر اور گرد سے بچا کر رکھتا ہے۔مگر جونہی وہ آئینہ خراب ہو جاتا اور میلا ہو جاتا ہے اور اُس میں اُس کی شکل نظر نہیں آتی یا چہرہ خراب نظر آتا ہے تو وہ اسے اُٹھا کر پھینک دیتا ہے۔اور جب میں یہ کہہ رہا ہوں تو رویا میں دیکھتا ہوں کہ میرے ہاتھ میں ایک آئینہ ہے۔اور ان الفاظ کے کہنے کے ساتھ ہی وہ میلا ہو جاتا ہے اور کام کا نہیں رہتا۔اور میں کہتا ہوں کہ انسان کا دل بھی خدا تعالیٰ کے مقابل پر آئینہ کی طرح ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس میں اپنے حسن کا جلوہ دیکھتا ہے اور اس کی قدر کرتا ہے مگر جب وہ میلا ہو جاتا ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کا حسن ظاہر نہیں ہوتا تو وہ اُسے اِس طرح اُٹھا کر پھینک دیتا ہے جس طرح خراب آئینہ کو اُٹھا کر پھینک دیا جاتا ہے۔اور یہ کہتے ہوئے میں نے اُس آئینے کو جو میرے ہاتھ میں تھا زور سے اُٹھا کر پھینک دیا اور وہ چکنا چور ہو گیا۔اُس کے ٹوٹنے سے آواز پیدا ہوئی اور میں نے کہا جس طرح خراب شدہ آئینے کو توڑ دینے سے انسان کے دل میں کوئی درد پیدا نہیں ہوتا اسی طرح ایسے گندے دل کو توڑنے کی اللہ تعالیٰ کوئی پروا نہیں کرتا۔در حقیقت انسان کی پیدائش کی غرض خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے اور یہ چیز بغیر قربانی کے حاصل نہیں ہو سکتی۔لوگ کہتے ہیں کہ روحانی ترقی حاصل کرنی چاہیے حالانکہ یہ اگلا قدم ہے۔پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ہمیں قربانی کیوں نصیب نہیں جو روحانی ترقی کے لیے ضروری چیز ہے۔لیکن انسان کہتا ہے یہ ایک بوجھ ہے اور وہ اس طرف متوجہ نہیں ہوتا۔کہ دوسری طرف وہ یہ کہتا ہے مجھے روحانی ترقی نصیب ہو۔اس کی مثال تو ایسی ہے کہ انسان روٹی نہ کھائے لیکن یہ کہے کہ میری بھوک مٹ جائے، پانی نہ پیے لیکن یہ کہے کہ میری پاس بجھ جائے۔لیکن کیا روٹی کھانے کے بغیر بھوک مٹ سکتی ہے اور کیا پانی پینے کے بغیر پیاس بجھ سکتی ہے؟ اسی طرح عقلی، جانی، وطنی اور مالی قربانی کیے بغیر روحانی ترقی بھی نہیں مل سکتی۔