خطبات محمود (جلد 35) — Page 369
$1954 369 خطبات محمود ہے۔کراچی شہر نے اسی فیصدی چندہ ادا کیا ہے۔صوبہ سندھ نے پینسٹھ فیصدی ادا کیا بلوچستان نے پچاس فیصدی ادا کیا ہے۔مشرقی پاکستان نے تینتیس فیصدی ادا کیا ہے اور بیرونِ پاکستان نے بیالیس فیصدی ادا کیا ہے لیکن بیرون پاکستان کے اعداد صحیح نہیں کیونکہ اُن کا چندہ جون تک جاتا ہے۔اس لیے سات ماہ گزرنے کے بعد جو رقم وصول ہو گی وہ موجودہ ا رقم کے مقابلہ میں دکھائی جائے گی۔نتیجہ یہ ہے کہ کراچی شہر وعدوں کی ادائیگی کے لحاظ باقی سب شہروں اور صوبوں سے بڑھ گیا ہے اور اس کے بعد دوسرے نمبر پر صوبہ پنجاب، صوبہ سندھ، صوبہ سرحد ہیں، تیسرے نمبر پر لاہور شہر اور بلوچستان کا صوبہ ہے اور چوتھے نمبر پر ریاست بہاولپور اور مشرقی پاکستان ہیں۔لاہور شہر کی جماعت کی حالت اس وجہ سے کہ تعلیم زیادہ ہے قابلِ افسوس ہے۔پچھلے سال تو فسادات ہوئے تھے اس لیے وصولی میں کمی کے متعلق یہ خیال کر لیا گیا تھا کہ وہ ان فسادات کی وجہ سے ہے لیکن اس دفعہ تو فسادات بھی نہیں تھے۔اگر جماعت کے دوست کوشش کرتے تو یہ کمی پوری ہو سکتی تھی۔اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ دو لاکھ چار ہزار کے وعدوں میں سے اسی ہزار کے وعدے وصول نہ ہوں تو بجٹ میں کس قدر کمی واقع ہو جاتی ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ ابھی ساتواں مہینہ جا رہا ہے۔اس کے ختم ہونے پر ایک پیسہ بھی تحریک جدید کے پاس نہیں ہو گا اور یہ کتنی خطرناک بات ہے۔اصول تو یہ بنایا گیا تھا کہ دسویں سال کے وعدے سارے کے سارے ریزرو فنڈ میں جائیں تا دس لاکھ کا قرضہ جو تحریک جدید کے ذمہ ہے اُتر جائے لیکن ہوا یہ ہے کہ دسویں سال کا چندہ جو وصول ہوا وہ بھی خرچ کر لیا گیا ہے۔اور اس کے خرچ کر لینے کے بعد یہ حالت ہے کہ اگر اسی ہزار کے بقائے وصول ہو جائیں تو تب بمشکل تین ماہ کا خرچ چل سکے گا۔لیکن ابھی باقی پانچ ماہ ہیں۔دسویں سال کے وعدوں کی حالت یہ ہے کہ لاہور شہر کی وصولی چالیس فیصدی ہے۔پنجاب کی وصولی بھی قریباً اتنی ہے بلکہ اس سے بھی کم ہے۔صوبہ سرحد کی وصولی بھی قریباً اتنی ہی ہے۔ریاست بہاولپور کی وصولی چالیس فیصد سے بھی کم ہے۔کراچی شہر کی وصولی قریباً پچپن فیصدی۔صوبہ سندھ کی وصولی پینسٹھ فیصدی ہے۔بلوچستان کی وصولی اور بھی گر گئی ہے۔یعنی گل تمہیں فیصدی وعدے وصول ہوئے ہیں۔مشرقی پاکستان کی وصولی بھی قریباً تیس فیصدی ہے۔ہے