خطبات محمود (جلد 35) — Page 340
خطبات محمود 340 $1954 پیدا کیا ہے اور اس سے عام استعمال میں آنے والی آدھی سنتھنک ( SYNTHETIC) دوائیں بنتی ہیں۔لیکن انسان بڑے غرور سے کہتا ہے یہ دوا میں نے ایجاد کی ہے، یہ فلاں نے ہے وہ ایجاد کی ہے۔اور وہ بالکل بھول جاتا ہے کہ جن چیزوں سے اس نے یہ دوا بنائی خدا تعالی کی ہی پیدا کردہ ہیں۔پس ایک زمانہ جہالت کا ایسا آتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ چیزوں کو اتفاق کی طرف منسوب کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کو بھول جاتا ہے۔اور پھر ایک ایسا زمانہ آتا ہے کہ وہ ان چیزوں کو اپنی طرف منسوب کرنے لگ جاتا ہے۔پھر علم کا زمانہ آتا ہے اور انسان سمجھتا ہے کہ سب چیزیں خدا تعالیٰ نے بنائی ہیں۔پھر اس سے آگے ایک اور زمانہ آتا ہے جب انسان خدا تعالیٰ کے ہاتھ کو ہر چیز میں حرکت کرتا دیکھتا ہے اور اُسے نظر آ رہا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اُسے بنا رہا ہے۔غرض میں دیکھتا ہوں کہ شرارت کی تاریں پھر ہلائی جا رہی ہیں۔تم نے پہلے بھی دیکھا ہے کہ جو کچھ ہوا تمہاری کسی کارروائی کے نتیجہ میں نہیں ہوا۔محض خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے ہوا تھا۔اور آئندہ بھی جو کچھ ہو گا اُس کی مدد اور نصرت سے ہی ہو گا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے وجود کو خدا تعالیٰ کے لیے ضروری بنا لیں۔مثلاً اس وقت خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ اسلام کو زندہ کرے۔پس تم اپنا وجود اس قسم کا بنا لو کہ اس کے ذریعہ اسلام زندہ ہو۔جنگ بدر کے موقع پر مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اور دشمن کی تعداد اُن سے کئی گنا زیادہ تھی۔پھر اسلامی لشکر کے سپاہی آزمودہ کار نہیں تھے اور دشمن کے تمام سپاہی آزمودہ کار تھے۔پھر اسلامی لشکر کے پاس سامانِ حرب بھی بہت کم تھا ، دشمن کے پاس سامانِ حرب وافر مقدار میں تھا۔پھر اردگرد کے علاقہ کے رہنے والے دشمن کے ہم مذہب تھے۔اگر صحابہ کے قدم اکھڑ جاتے اور وہ پناہ لینے کے لیے اردگرد کے علاقہ میں جاتے تو اُس کے رہنے والوں نے انہیں مار مار کر ختم کر دینا تھا۔اول تو اُن کا بچنا ہی مشکل تھا لیکن اگر وہ دشمن کے لشکر سے بچ جاتے تو اردگرد کے علاقہ کے لوگوں نے انہیں ختم کر دینا تھا۔دشمن کے لشکر کے لیے زیادہ سہولت تھی۔اُس کے پاس سامان زیادہ تھا۔انہوں نے جس جگہ پر قبضہ کیا تھا وہ بھی