خطبات محمود (جلد 35) — Page 339
$1954 339 خطبات محمود کا ہاتھ اتنا مخفی ہوتا ہے کہ وہ انسان کو نظر نہیں آتا۔لیکن جو تجلیات نظر آتی ہیں وہ ہمیشہ وقفہ وقفہ کے بعد ہوتی ہیں۔عام حالات میں خدا تعالیٰ انسان کو موقع دیتا ہے کہ وہ سوچ اور فکری کے ساتھ انہیں پہچان لے لیکن چونکہ نظر آنے والے نشانات وقفہ وقفہ کے بعد آتے ہیں اس لیے لوگ انہیں بھول جاتے ہیں اور سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ ہم وہی کچھ کریں گے جو ہماری مرضی ہوگی۔ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہوتی ہے جیسے شکاری جال بچھاتا ہے اور اُس کے نیچے دانے بکھیر دیتا ہے۔جانور آتے ہیں اور دانے چگتے ہیں۔اس پر بعض جانور پھنس جاتے ہیں بعض اُڑ جاتے ہیں۔اس کے بعد جانور دوبارہ آتے ہیں اور پھر کچھ پھنس جاتے ہیں اور کچھ اُڑ جاتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ جال اس طرز پر بنا ہوا ہوتا ہے کہ وہ ایک چیز نظر نہیں آتی اس لیے جانور دھوکا کھا جاتے ہیں اور بار بار آ کر اُس میں پھنستے جاتے ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے نظر آنے والے نشانات کا حال ہوتا ہے۔لوگ نشان بھی دیکھتے ہیں، ماریں بھی کھاتے ہیں اور پھر کچھ عرصہ کے بعد اسے بھول بھی جاتے ہیں۔لیکن جو نشان ہر وقت ظاہر ہو رہا ہے مثلاً صبح ہوتی ہے، شام ہوتی ہے، روزانہ سورج نکلتا اور غروب ہوتا ہے، چاند چڑھتا ہے اور ڈوبتا ہے، غلے پیدا ہو رہے ہیں، بیماریاں آ رہی ہیں صحت کے اسباب پیدا ہور ہے ہیں ان چیزوں میں انسان کو یوں معلوم ہوتا ہے کہ یا تو انہیں ہم نے خود پیدا کیا ہے اور یا یہ اتفاقی طور پر پیدا ہو گئی ہیں۔اس لیے لوگ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے۔قرآن کریم میں بھی آتا ہے کہ بعض جاہل شرارت میں اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سب چیزیں انہوں نے اپنے علم سے حاصل کی ہیں۔1 پہلا درجہ غفلت کا یہ ہوتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ یہ چیزیں آپ ہی پیدا ہو گئی ہیں۔اور دوسرا درجہ جہالت کا یہ ہے کہ انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کائنات کا کرتا دھرتا میں ہی ہوں۔وہ خدا تعالیٰ کو بھول جاتا ہے، وہ بھول جاتا ہے کہ گندھک خدا تعالیٰ نے پیدا کی ہے، وہ بھول جاتا ہے کہ سنکھیا خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، وہ بھول جاتا ہے کہ پارہ خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ میں نے آتشک کا ٹیکہ ایجاد کیا ہے حالانکہ وہ ٹیکے بعض چیزوں کا مرکب ہیں اور وہ چیزیں خدا تعالیٰ نے پیدا کی ہیں۔پھر تارکول 2ے ہے۔تارکول خدا تعالیٰ نے