خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 341

$1954 341 خطبات محمود مسلمانوں کی نسبت زیادہ اچھی تھی۔پھر اگر انہیں شکست بھی ہوتی تو اردگرد کے علاقہ کے بسنے والے اُن کے واقف اور ہم مذہب تھے۔گویا اول تو فتح یقینی تھی اور پھر شکست کی صورت میں اُن کے پاس چھپنے اور بھاگنے کے سامان بھی تھے۔اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و نے اس جذبہ کو مدنظر رکھ کر دعا کی کہ اے خدا! ہم کمزور اور ناتواں ہیں اور اور دشمن طاقتور لیکن اے خدا! اگر یہ چھوٹی سی جماعت ہلاک ہو گئی تو لَنُ تُعْبَدَ فِي الْاَرْضِ اَبَدًا - 4 اِس زمين ہے پر تیری عبادت کوئی نہیں کرے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فقرہ اس لیے استعمال کیا تھا کہ اس چھوٹی سی جماعت نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ زمین پر خدا تعالیٰ کی عبادت صرف انہی کے ذریعہ سے قائم ہے۔اگر واقع میں وہ تھوڑے سے افراد خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے والے نہ ہوتے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ کہا تھا کہ لَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ اَبَدًا تو خدا تعالیٰ کہتا یہ بات درست نہیں۔ان سے بہتر عبادت کرنے والے موجود ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ نے انہیں ایسا نہیں کہا۔دوسرے لفظوں میں خدا تعالیٰ نے مان لیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلیل درست ہے۔اگر یہ چھوٹا سا گروہ مارا گیا تو میری عبادت اس زمین پر نہیں ہو گی۔اب یہ ایک ذریعہ تھا خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت حاصل کرنے کی کا۔تم بھی اپنے وجودوں کو خدا تعالیٰ کے دین کے احیاء کا ذریعہ بنا لو۔اگر تم ایسا کر لو تو چونکہ خدا تعالیٰ اس وقت دین کا احیاء چاہتا ہے۔اس لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی تمہیں مار سکے لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ جوں جوں جماعت ترقی کر رہی ہے افراد میں دنیوی خیالات آ رہے ہیں اور وہ دنیوی کاموں کو دین کے کاموں پر مقدم کر رہے ہیں۔کسی کو بڑا عہدہ مل جاتا ہے تو اُس کی بیوی پردہ اُتار دیتی ہے۔ذرا اور اوپر چلے جاتے ہیں تو بعض دوسری خرابیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔اگر تم دوسرے لوگوں کی طرح اس رو میں بہہ جاؤ اور تم میں خرابیاں پیدا ہو جائیں تو خدا تعالیٰ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ تمہیں بچائے۔تمہاری ضرورت اُسے تبھی ہو گی۔جب تم دین کی خدمت اس طریق سے کرو کہ باوجود اس کے کہ تم کمزور ہو خدا تعالیٰ یہ محسوس کرے کہ تمہارا بچانا ضروری ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم میں کسی قسم کی کمزوری