خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 266

خطبات محمود 266 $1954 مثلاً احباب کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر دو طرح کی ذمہ داریاں نی عائد کی ہوئی ہیں۔ایک ذمہ داری اُس کے نفس کی ہے جس میں اُس کے عزیز اور رشتہ دار بھی شامل ہوتے ہیں۔اور ایک ذمہ داری اُس کی قوم یا ملک کی ہے جس میں وہ رہتا ہے۔اس میں وہ تمام افراد شامل ہوتے ہیں جو اُس کی طرف کسی نہ کسی رنگ میں منسوب ہوتے ہیں۔چاہے وہ انہیں جانتا ہو یا نہ جانتا ہو، اُس نے انہیں دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو۔اس ذمہ داری کو وسیع کیا جائے تو یہ انسانیت کی ذمہ داری کہلاتی ہے اور اگر اسے محدود کریں تو یہ وطنی قوم کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔اور اگر اسے اور محدود کر دیا جائے تو ایک نسلی قوم یعنی ایک دادے کی اولاد کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔بہر حال یہ ذمہ داری ایسی ہے جس میں جاننے یا نہ جاننے کا سوال نہیں انسانوں کا ہر طبقہ اس میں شامل ہوتا رسول کریم ہے۔صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کے احکام میں اِن دونوں ذمہ داریوں کو مدنظر رکھا۔و ہے۔من انسان کی اپنی ذات ہے۔اس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ اس کا خیال رکھا جائے۔احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے بعد مہاجرین اور انصار کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا تھا۔1 ایک مہاجر صحابی کے متعلق روایت آتی ہے کہ جب وہ اپنے انصاری بھائی کے گھر گئے تو انہوں نے دیکھا کہ اُن انصاری صحابی کی بیوی کے کپڑے نہایت میلے کچیلے ہیں۔اُن دنوں پردہ کے احکام ابھی نازل نہیں ہوئے تھے۔انہوں نے اُسے توجہ دلائی کہ جسم اور لباس کی صفائی رکھا کرو کیونکہ مذہبی لحاظ سے بھی اور جسمانی لحاظ سے بھی یہ نہایت ضروری چیز ہے۔اُس نے جواب دیا کہ میں نے کیا صفائی رکھنی ہے۔بیوی کی طرف توجہ کرنے والا تو خاوند ہوتا ہے لیکن تمہارے انصاری بھائی کو تو کی گھر کی پروا ہی نہیں۔وہ دن کو روزہ رکھتا ہے اور ساری رات نماز پڑھتا رہتا ہے۔اُسے دنیا کی کی طرف کوئی رغبت ہی نہیں ہے۔جب وہ انصاری گھر آئے تو اُن کے لیے کھانا تیار کیا گیا لیکن انہوں نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا اور کہا میں نے تو روزہ رکھا ہوا ہے۔اس پر مہاجر بھائی نے کہا کہ جب تک تم کھانا نہ کھاؤ میں بھی کھانا نہیں کھاؤں گا۔پہلے تو انہوں نے انکار کیا مگر جب ان کے مہاجر بھائی کا اصرار بڑھ گیا تو انہوں نے کہا بہت اچھا! میں روزہ کھول