خطبات محمود (جلد 35) — Page 267
$1954 267 خطبات محمود دیتا ہوں۔چنانچہ انہوں نے کھانا کھا لیا۔پھر رات کا کھانا کھانے کے بعد، عشا کی نماز ادا کرنے کے بعد انصاری دوست نے نفل ادا کرنے شروع کیے تو مہاجر بھائی نے انہیں پکڑ لیا تی اور کہا تم گھر میں جاؤ اور سو رہو۔میں تمہیں نفل نہیں پڑھنے دوں گا۔تہجد کے وقت میں تمہیں جگا دوں گا۔خیر وہ گھر جا کر سو گئے اور رات کے آخری حصہ میں مہاجر بھائی نے انہیں جگا دیا اور انہوں نے نماز تہجد ادا کی۔جب صبح ہوئی تو وہ انصاری رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ يَارَسُول اللہ! آپ نے فلاں شخص کو میرا بھائی مقرر کیا ہے۔اُس نے کل مجھے عبادت سے محروم رکھا ہے۔میں دن کو روزہ رکھتا تھا اور ساری رات نفل ادا کیا کرتا تھا لیکن اُس نے نہ مجھے روزہ رکھنے دیا اور نہ ساری رات نفل ادا کرنے دیئے۔آپ نے فرمایا تمہارے بھائی نے جو کچھ کیا ہے درست کیا ہے۔جو طریق تم نے اختیار کیا وہ درست نہیں۔تمہیں سمجھنا چاہیے کہ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ وَلِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ - تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے۔پس اسلام نے اپنے احکام میں انسان کی ذات کو مدنظر رکھا ہے اور کہا ہے اس کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔پھر نفس میں بیوی اور دوسرے رشتہ داروں کو بھی شامل کیا ہے۔رشتہ داروں کے علاوہ دوسرے افراد کے متعلق ہم دیکھتے ہیں تو ان کے متعلق بھی شریعت میں احکام موجود ہیں۔چنانچہ آپ نے فرمایا کہ جب تم جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں آؤ تو نہا کر آؤ۔پیاز، لہسن یا اور کسی قسم کی بدبودار چیز کھا کر نہ آؤ، کپڑے دھو کر آؤ اور خوشبو لگا کر آؤ۔3 نہانا اس لیے ضروری قرار دیا کہ گندہ رہنے کی وجہ سے جسم میں ایک قسم کی بدبو پیدا ہو جاتی ہے جو نہانے سے دور ہو جاتی ہے۔خوشبو لگانے کا حکم اس لیے دیا کہ بعض بیماریوں کی وجہ سے جیسے بغل گند ہوتی ہے نہانے کے باوجود جسم سے بدبو آتی رہتی ہے۔خوشبو اس قسم کی بُو کے ازالہ کے لیے مفید چیز ہے۔غرض جو کو عارضی ہوتی ہے اُس کا بھی علاج کر دیا اور بیماریوں کی وجہ سے جو مستقل بُو پیدا ہو جاتی ہے اُس کا بھی علاج کر دیا۔پھر آپ نے فرمایا دیکھو! انسان کے لیے یہ چیز بھی ثواب کا موجب ہے کہ اگر وہ راستہ میں کوئی لکڑی، کانٹا یا گوبر پڑا ہوا دیکھے تو اُسے دور کر دے۔4 اُس کا یہ فعل بھی اُس کے لیے نیکی شمار ہوگا۔-