خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 91

$1954 91 خطبات محمود پیدا ہوا۔اس میں بھی فرق نظر آتا ہے۔پھر کوئی سفید تھا اور کوئی کالا تھا۔اس میں بھی فرق نظری آتا ہے۔پھر کوئی، کوئی بولی بولتا تھا اور کوئی ، کوئی بولی بولتا تھا۔اس میں بھی فرق نظر آتا ہے۔لیکن اس بات میں کوئی فرق نہیں کہ ہر نبی جب دنیا میں مبعوث ہوا اُس کی قوم خطرناک حالات میں سے گزر کر ترقی کر گئی۔دشمن نے انہیں دیکھ دیئے، تکالیف دیں، مصائب کے پہاڑ اُن پر توڑے لیکن وہ پھر بھی زندہ رہیں اور ترقی کر گئیں۔یہ اتنا بڑا نشان ہے کہ اگر انسان اس پر غور کرے تو یہ اُس کے ایمان کی ترقی کا موجب ہو جاتا ہے لیکن اس کے باوجود انسان سمجھتا ہے کہ ان قوموں نے طاقت اور زور سے ترقی حاصل کی تھی حالانکہ اگر طاقت اور زور سے ہی تو ترقی حاصل کی تھی تو ان سے پہلے بھی تو بہت سی قومیں گزری ہیں۔روایات بتاتی ہیں کہ جب بھی کسی قوم نے دین کو پھیلایا ہے تو وہ دوسری قوموں پر غالب آئی ہے۔لیکن وہ طاقت اور زور سے غالب نہیں آتی۔الہی نصرت کے ذریعہ غالب آئی ہے۔اس میں طاقت اور قوت نہیں تھی لیکن خدا تعالیٰ نے اُن سے کام لیا۔اور اس کا کام لینے کا طریق ایسا ہی ہے جیسے کوئی ماں میز اُٹھانے لگی ہو تو بچہ آجائے اور کہے میں میز اُٹھاؤں گا۔ماں کہتی ہے اچھا! تم اُٹھاؤ! اور وہ دیکھتی ہے کہ بچہ اس میز کو پکڑ کر بظاہر زور لگا رہا ہے لیکن اس کے زور لگانے سے میز اُٹھایا نہیں جا سکتا۔ماں اس میز کو اُٹھاتی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ یہ کہتی جاتی ہے لگاؤ زور! حالانکہ بچہ صرف میز پر ہاتھ رکھے ہوئے ہوتا ہے۔وہ اس کے کام میں مدد نہیں دے رہا ہوتا۔بلکہ بسا اوقات اس کے لیے زیادہ بوجھ کا موجب بن رہا ہوتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ ہم سے کہتا ہے دو چندے، کرو قربانیاں۔حالانکہ ان چندوں اور قربانیوں کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔جو کام خدا تعالیٰ مجددین ، مصلحین اور انبیاء کی جماعتوں سے لیتا ہے۔اسے دیکھو تو اس کے سامنے ان کی قربانیاں اور کوششیں بیچ نظر آتی ہیں۔لیکن باوجود اس کے کہ سامان، طاقت اور قوت کم ہوتی ہے،مصلحین، مجددین اور انبیاء کی جماعتیں ترقی کر جاتی ہیں۔ان کی قربانیوں کے مقابلہ میں کام زیادہ ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ لو آپ کے پاس مال اور ذرائع بہت کم تھے۔آپ کے بعد جو لوگ آئے ان کے ذرائع زیادہ تھے۔ان کے پاس مال زیادہ تھا لیکن جو کام رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے خلفاء کے زمانہ میں ہوا وہ