خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 366

1954ء 366 خطبات محمود زمانہ آئے گا کہ آپ کی قدسی تأثیر دنیا بھر میں اسلام کو پھیلا دے گی 2 اور پرانے مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ مسیح موعود کے وقت میں ہو گا ۔ 3- اب اگر بانی سلسلہ احمد یہ مسیح موعود تھے اور تم ان کے ماننے والے ہو تو یہ کام تمہارے ذریعہ ہو گا۔ لیکن خدا تعالیٰ کی یہ سنت چلی آتی ہے کہ جو قوم اس کے دین کی مدد کے لیے کھڑی ہوتی ہے وہ اُس سے مدد کے وعدے کرتا ہے لیکن اس مدد سے پہلے اسے کام کرنا پڑتا ہے، قربانی کرنی پڑتی ہے۔ تب خدا تعالیٰ کی مدد اُسے حاصل ہوتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف کام نہیں چاہتا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ دنیا میں نیکی پھیلے اور یہ کام بغیر قربانی کے نہیں ہو سکتا۔ دل، مال اور جان قربان کیے بغیر صاف نہیں ہوتے۔ اگر تم نے انہیں صاف کرنا ہے تو جانی و مالی قربانی کرو۔ اگر تم جان و مال قربان نہیں کرو گے تو تمہارے دل بھی صاف نہیں ہوں گے اور تم مُردہ کے مُردہ خدا تعالیٰ کے پاس جاؤ گے۔ اس صورت میں وہ تمہیں جنت میں کیوں داخل کرے گا۔ یوں تو وہ اپنی ساری مخلوق سے محبت کرتا ہے لیکن انسان اُسے تبھی زیادہ پیارا ہے کہ اِس میں اُسے اپنا چہرہ نظر آتا ہے۔ جس طرح ہم کسی کے پانی کی نالی میں چل رہے ہوں اور اتفاق سے کسی جگہ نیچے نظر پڑے اور پانی میں سے ہمیں اپنی شکل نظر آ جائے تو ہم اُس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح انسان اگر چہ نہایت حقیر چیز ہے لیکن خدا تعالیٰ کو جب اس سے اپنا چہرہ نظر آتا ہے تو وہ اس کا پیارا اور محبوب ہو جاتا ہے۔ بچپن میں میں نے ایک رؤیا دیکھا۔ یہ غالباً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی بات ہے یا آپ کی وفات کے قریب کی یعنی چار پانچ ماہ کے عرصہ کے اندر کی ۔ اُس وقت حضرت خلیفة المسیح الاول حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مکان میں رہا کرتے تھے۔ مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے مکان کی طرف جو گلی جاتی ہے اُس کے اوپر جو کمرہ اور صحن ہے اُس میں آپ کی رہائش تھی۔ میں میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اُس صحن میں ہوں اور اُس کے جنوب مغرب کی طرف حکیم غلام محمد صاحب امرتسری جو حضرت خلیفة المسیح الاول کے مکان میں مطب کیا کرتے تھے کھڑے ہیں۔ اُن کو میں سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے تصرف کے ماتحت ایسے ہیں جیسے فرشتہ ہوتا ہے۔ میں تقریر کر رہا ہوں اور وہ کھڑے ہیں۔ میرے