خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 272

$1954 272 خطبات محمود لوگوں کو پناہ دی ہے جنہیں گزشتہ فسادات میں جلانے کا پروگرام بنایا گیا تھا۔اور جن لوگوں کو اب پناہ دی گئی ہے وہ انہیں جلانے آئے تھے۔اب وہ لوگ اپنے دلوں میں کتنے شرمندہ ہوں کی گے کہ اگر ہم ان مکانوں کو گزشتہ فسادات کے دوران میں جلا دیتے تو آج ہم طوفان میں ڈوب جاتے اور ہمیں پناہ کی کوئی جگہ نہ ملتی۔اب فرض کرو کہ کچھ عرصہ کے بعد جماعت کے احسان کو بھول جاتے ہیں۔تب بھی تم اُن سے حُسنِ سلوک کرو کیونکہ تم نے جو کچھ کرنا ہے وہ خدا تعالیٰ کی خاطر کرنا ہے۔اور خدا تعالیٰ تمہارے کام کو دیکھ رہا ہے اور وہی اس کا اجر دے گا۔اگر کوئی شخص کسی پر احسان کرتا ہے اور دوسرا شخص اُس احسان کو بھول جاتا ہے یا اُس کے أ احسان کی قدر نہیں کرتا تو یہ اُس کا قصور ہے۔تمہارا فائدہ اسی میں ہے کہ تم احسان کرتے چلے جاؤ۔اور ہمارا خدا ایسا ہے کہ اُس نے نیکی کرنے والے کے لیے ثواب کے اتنے رستے کھوئے ہیں کہ اُن کی کوئی حد ہی نہیں۔اس لیے ایسے فعل پر کسی مسلمان کے دل میں انقباض پیدا ہونا یا نفرت اور حقارت کا جذبہ پیدا ہونا اور دل میں گرہ پڑنا ناجائز ہے۔اگر کوئی تمہیں گالی دیتا ہے تو تمہیں چڑنے کی ضرورت نہیں۔اس کی گالی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا۔رسول کریم اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی کو گالی دیتا ہے تو خدا تعالیٰ کے فرشتے اُسے دعائیں دیتے ہیں۔6 اب دیکھو! اُس شخص کی گالیوں نے کیا بنانا تھا؟ اگر کچھ بنانا ہے تو فرشتوں کی دعاؤں نے بنانا ہے۔میری اپنی یہ حالت ہے کہ مجھے کوئی کتنی گالیاں دے مجھے اس بات کا احساس بھی نہیں ہوتا۔میں سمجھتا ہوں کہ اِن الفاظ سے میرا کیا بگڑتا ہے۔بعض لوگ میرے پاس آتے ہیں اور شکایت کرتے ہیں کہ فلاں شخص نے بددعا کی ہے۔مجھے اُن کی بات پر ہمیشہ ہنسی آتی ہے کہ اگر تو خدا تعالیٰ قادر وعلیم ہے اور وہ یقیناً ایسا ہے تو وہ جانتا ہے کہ کوئی شخص دعا کے قابل ہے یا بددعا کے۔اگر خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ دعا کے قابل ہے تو وہ اپنے علم کے مطابق اُس سلوک کرے گا اور کسی کی بددعا کو کیوں سُنے گا۔اور اگر اُس کے علم میں وہ دعا کے قابل نہیں تو اگر کوئی اُسے بددعا نہ بھی دیتا تب بھی اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا تھا۔اگر خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اُس کے دس بچے زندہ رہیں اور دوسرا شخص کہتا ہے کہ خدا کرے