خطبات محمود (جلد 35) — Page 273
$1954 273 خطبات محمود وہ اُس کے سارے بچے مر جائیں، تو خدا تعالیٰ پاگل تو نہیں کہ وہ اُس کی بات کو مان لے۔و اپنے علم کے مطابق اُس سے سلوک کرے گا اور دوسرے شخص کی بددعا کوئی اثر نہیں کرے گی۔یہ عجیب بات ہے کہ تم ایک طرف تو اُسے خدا سمجھتے ہو اور دوسری طرف اُسے اپنے سے بھی کم عقل سمجھتے ہو۔ہمارا خدا تو کامل خدا ہے۔اگر ساری دنیا مل کر بھی ہمارے لیے بددعا ئیں کرے تو ہم اُن سے ڈر نہیں سکتے۔کیونکہ خدا تعالیٰ اپنے علم کے مطابق ہم سے سلوک کرے گا۔وہ اس بات کا پابند نہیں کہ دوسرا جو کچھ کہہ دے اُسے مان لے۔یہ تو جاہل عورتوں کا طریق ہے کہ وہ دوسرے کی بددعا سے ڈرتی ہیں۔مجھے ساری دنیا بددعائیں دے لے۔میں اُن کے سامنے بیٹھ جاتا ہوں اور بددعائیں سنتا جاتا ہوں۔میرا کچھ نہیں بگڑے گا۔کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ لوگ میرے خدا نہیں۔میرا خدا مجھے دیکھ رہا ہے اور وہ خوب سمجھتا ہے کہ میں ان بددعاؤں کا مستحق ہوں یا دعاؤں کا۔اُسی نے مجھ سے معاملہ کرنا ہے۔ان لوگوں کا کیا ہے۔یہ جو چاہیں کرتے رہیں ان کی بددعاؤں کا کوئی اثر نہیں ہوسکتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مظلوم کی دعا قبول ہوتی ہے۔مظلوم کی دعا اور خدا تعالیٰ کے درمیان کوئی چیز روک نہیں لیکن پہلے تو تم اپنے آپ کو ظالم بناؤ گے تو ایسا ہو گا۔جب تم کسی کی بددعا سے ڈرتے ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تم اس بات کا اقرار کرتے ہو کہ تم ظالم ہو۔اور اگر تم جانتے ہو کہ تم نے جرم کیا ہے تو اس کا علاج ڈرنا اور شور مچانا نہیں بلکہ ظلم کا علاج یہ ہے کہ تم مظلوم کے پاس جا کر اُس سے اپنے قصور کی معافی طلب کرو۔غرض تمہیں اس بات کی پروا نہیں کرنی چاہیے کہ لوگ تمہاری خدمت کو بھول گئے ہیں۔وہ بیشک بھول جائیں جس ذات کے لیے تم نے ان کی خدمت کی تھی وہ اسے نہیں بھول سکتی۔خدا تعالیٰ تمہارے کام کو دیکھ رہا ہے اور وہ اس کا بہتر اجر تمہیں دے گا۔امام غزالی نے ایک کہانی بیان کی ہے جسے حدیث کہا جاتا ہے لیکن وہ حدیث نہیں۔مگر چونکہ کہانیوں سے بھی بعض اسباق ملتے ہیں اس لیے صوفیاء اپنی کتابوں میں ایسی کہانیاں بھی درج کر لیتے ہیں۔آپ لکھتے ہیں کہ قیامت کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی کھڑے ہوں گے اور آپ کی امت بھی کھڑی ہو گی کہ جہنم میں یکدم جوش پیدا ہو گا