خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 18

$1954 18 خطبات محمود کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ وہاں پیشاب کرنے والا پیشاب بھی کر رہا ہے اور کوڑا کرکٹ پھینکنے والا کوڑا کرکٹ بھی پھینک رہا ہے۔پس مساجد کے ساتھ جو خشوع خضوع وابستہ ہے وہ کسی دوسری جگہ کے ساتھ وابستہ نہیں۔اور گو یہ جائز ہے کہ انسان دوسری جگہوں میں بھی نماز پڑھ لے جیسے اس وقت ہم یہاں نماز پڑھ رہے ہیں مگر یہ چیز مجبوری کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔پس لاہور کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ جلدی مسجد بنائیں۔اس کے لیے تم زیادہ کی انتظار نہ کرو۔معمولی چار دیواری بناؤ اور نماز پڑھنی شروع کر دو۔دھوپ ہو تو سائبان کھڑے کیسے اور نماز پڑھ لی۔بہر حال ہر احمدی کو جب وہ نماز پڑھ رہا ہو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ وہ گلی میں نماز نہیں پڑھ رہا۔بیشک گلی میں بھی نماز ہو جاتی ہے مگر گلی میں نماز پڑھنے والوں کی وی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے شاہی جلوس نکلتا ہے تو بعض لوگ گلیوں میں باہر نکل کر اسے دیکھتے ہیں اور بعض جلوس دیکھنے کے لیے چھتوں پر چڑھ جاتے ہیں۔لیکن ایک وہ لوگ ہوتے ہیں جو شاہی دربار میں کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔کیا تم سمجھتے ہو کہ دونوں کو ایک جیسا ہی مزا آتا ہے؟ وہ شخص جو دربار میں کرسی پر بیٹھا ہوا ہوتا ہے اُس میں اور اُس شخص میں جو چوری چھپے جھانک رہا ہوتا ہے بڑا بھاری فرق ہوتا ہے۔گلی میں نماز پڑھنے والا ایسا ہی دربار لگا ہوا ہو تو کوئی شخص گلی میں سے جھانک رہا ہو اور مسجد میں نماز پڑھنے والا ایسا ہے جیسے دربار میں کوئی شخص کرسی پر بیٹھا ہو۔پس ہر احمدی کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ وہ خدا کے دربار میں حاضر ہوا تھا چوروں کی طرح جھانکنے نہیں آیا تھا۔اگر تم ایسا کر لو تو میرا چالیس سالہ لمبا تجربہ ہے کہ اس کے بعد تمہیں مسجد بنانے کی بھی توفیق مل جائے گی۔جب مسجد میں بنے لگتی ہیں تو معلوم نہیں لوگوں کے پاس روپیہ کہاں سے آ جاتا ہے۔بہر حال روپیہ آتا ہے اور مسجد تیار ہو جاتی ہے۔جب لاہور کی موجودہ مسجد بنے لگی تو میں اپنی کمزوری کا اقرار کروں گا کہ میں نے کئی دفعہ قریشی محمد حسین صاحب موجد مفرح عنبری لاہور والوں کو جنہوں نے یہ مسجد بنوائی تھی کہا کہ قریشی صاحب! جماعت پر آپ نے بوجھ ڈال دیا ہے۔مگر وہ کہتے کہ جماعت پر کچھ بھی بوجھ نہیں۔جب لوگ جمعہ کے لیے آتے ہیں تو میں اُن سے کہتا ہوں کہ آپ لوگ