خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 8

$1954 8 خطبات محمود وہ اور شاید ہماری وفات کے لاکھوں کروڑوں سال بعد تک بھی اسی طرح روشن اور چمکتے رہیں گے جیسے وہ آج روشنی دیتے اور چمکتے ہیں۔سورج اسی طرح گرمی پہنچاتا رہے گا جس طرح آج پہنچا رہا ہے۔سورج اور چاند کھیتوں کو اُسی طرح فائدہ پہنچاتے رہیں گے اور پہنچاتے چلے جائیں گے جس طرح وہ آج پہنچا رہے ہیں۔وہ جراثیم کو اُسی طرح ماریں گے اور مارتے چلے جائیں گے جیسے وہ ہمیشہ مارتے چلے آئے ہیں۔ہاں! ایک عارضی عرصہ میں اور ایک خاص ماحول میں انسان ان کے فائدہ سے محروم ہو جاتا ہے۔بظاہر دنیا جھتی ہے کہ سورج غائب ہو گیا ہے، بظاہر دنیا سمجھتی ہے کہ چاند اور ستارے چُھپ گئے ہیں اور اب روشنی نہیں دیتے حالانکہ وہ برابر روشن ہوتے ہیں اور روشنی پہنچا رہے ہوتے ہیں۔یہی حال سچائیوں کا ہے۔سچائی غائب نہیں ہوتی ، سچائی نہیں ملتی۔انسان غائب ہوتا ہے اور انسان مٹ جاتا ہے۔بیوقوف سمجھتا ہے کہ سورج، چاند اور ستارے چُھپ گئے ہیں حالانکہ یہ خود چُھپ جاتا ہے اور تاریکیوں میں پھنس جاتا اور روشنی کے فوائد سے محروم ہو جاتا ہے مگر وہ اس محرومیت کو دوسرے کی طرف منسوب کر دیتا ہے۔قصہ مشہور ہے کہ کوئی اندھا اندھیرے میں لائین ہاتھ میں لیے جا رہا تھا۔کوئی سوجا کھا اُس کے پاس سے گزرا تو اُسے لالٹین ہاتھ میں لیے دیکھ کر ہنس پڑا اور کہنے لگا میاں! ب تجھے نظر نہیں آتا تو تجھے اس لائین کا کیا فائدہ؟ اُس اندھے نے کہا بیشک میں اندھا ہوں اور مجھے اس لالٹین کی ضرورت نہیں۔مگر یہ لائین میں نے اپنے پاس سجاکھے اندھوں کے لیے رکھی ہے تا کہ وہ اندھیرے میں مجھے ٹھوکر نہ لگائیں۔اسی طرح یہ چیزیں یعنی سورج، چاند اور ستارے اپنے لیے فائدہ حاصل نہیں کر رہے ہوتے بلکہ دوسروں کو فائدہ پہنچا رہے ہوتے ہیں۔تریاق اپنی ذات کو فائدہ نہیں دیتا۔ہاں! جو اُسے استعمال کرتا ہے وہ زہر کے اثر محفوظ ہو جاتا ہے۔زہر اپنی ذات میں نقصان نہیں اُٹھاتا۔ہاں! انسان اسے کھائے تو مر جاتا ہے۔اسی طرح یہ چیزیں انسانوں کو ہی مارتی ہیں اور جلاتی ہیں۔پس جب کہ حالت یہ ہے و بدقسمت ہے وہ انسان جو باتوں میں اپنی ساری عمر ضائع کر دیتا ہے اور کام کی طرف توجہ نہیں کرتا۔ہر خرابی جسے وہ دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ دوسروں کی طرف آ رہی ہے ނ