خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 7

$1954 7 خطبات محمود سیلاب سے بچنے کے لیے لوگ دوڑ پڑتے ہیں، جس طرح آگ سے بچنے کے لیے لوگ مکانوں سے نکل بھاگتے ہیں، جس طرح گرنے والے پہاڑ سے بچنے کے لیے لوگ اپنی جانوں کی کی حفاظت کرتے ہیں اُسی طرح وہ ان مصیبتوں سے بھی اپنے آپ کو بچائیں۔جو کہنے والے کے لیے اسلام کی مصیبتیں ہیں لیکن وہ اسلام کی نہیں بلکہ مسلمانوں کی مصیبتیں ہیں۔کیونکہ اسلام ایک مستقل سچائی ہے اور کسی مستقل سچائی کو اس چیز سے واسطہ نہیں ہوتا کہ کوئی شخص اسے مانتا ہے یا نہیں مانتا۔پس وہ مصیبتیں، آفتیں اور مشکلات مسلمانوں کے لیے ہیں ورنہ اسلام ان مشکلات کے دائرہ سے کلی طور پر باہر ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی علاقہ میں آندھی آ جاتی ہے اور سارے جو 1 پر چھا جاتی ہے تو سورج، چاند اور ستارے نظر آنے بند ہو جاتے ہیں۔اب بظاہر وہ آندھی چاند اور ستاروں کے لیے ہوتی ہے کہ وہ اس کی وجہ سے نظر نہیں آتے لیکن حقیقت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آندھی انسانوں کے لیے ہوتی ہے کہ سورج، چاند اور ستارے انہیں نظر نہیں آتے۔ورنہ وہ اسی طرح چمک رہے ہوتے ہیں اور فضا ئیں ان سے اسی طرح روشن ہوتی ہیں جیسے پہلے روشن تھیں۔آندھی صرف چند فٹ کی بلندی تک ہوتی ہے اور وہ بھی دس پندرہ میل کے علاقہ میں کہ جس میں وہ انسانوں کے ایک حصہ کو سورج، چاند اور ستاروں کی روشنی سے محروم کر دیتی ہے۔اسی طرح آندھی کی وجہ سے کچھ لوگوں کے مکان گر جاتے ہیں، کچھ چھتیں اڑ جاتی ہیں، کچھ غلے پراگندہ ہو جاتے ہیں، کچھ درخت اکھڑ جاتے ہیں، کچھ کھیتیاں خراب ہو جاتی ہیں لیکن یہ ساری چیزیں انسان کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہوتی ہیں سورج، چاند اور ستاروں کے ساتھ تعلق نہیں رکھتیں۔ان کھیتوں، درختوں اور چھتوں سے سورج، چاند اور ستاروں کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔مکانوں میں سورج، ان چاند اور ستارے نہیں رہتے۔” چھتیں سورج، چاند اور ستاروں کی حفاظت نہیں کرتیں۔چیزوں سے فائدہ اُٹھانے والے محروم ہوتے ہیں تو انسان محروم ہوتے ہیں سورج، چاند اور ستارے نہیں۔جن کے لیے آندھی آئی ہوئی ہوتی ہے وہ انسان ہوتے ہیں کہ جن کے درمیان اور سورج، چاند اور ستاروں کے درمیان گردوغبار حائل ہو جاتا ہے ورنہ سورج، چاند اور ستارے ہمیشہ سے روشن ہیں۔ہماری پیدائش سے لاکھوں کروڑوں سال قبل بھی روشن۔تھے