خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 109

$1954 109 خطبات محمود مضبوطی سے پکڑتا اور پھر اس کی گردن پر چھری پھیرتا۔لیکن دشمن نے بے تحاشا نیزے مارنے شروع کیے۔پندرہ ہمیں قصاب مرے تو باقی شہر کی طرف بھاگے اور فریاد فریاد کہتے ہوئے دربار میں پہنچے۔اور بادشاہ سے کہنے لگے بادشاہ سلامت! دشمن کے سپاہیوں کو سمجھائیں کہ ہم با قاعدہ اُن کی ٹانگیں اور بازو پکڑتے ہیں، قبلہ رُخ لِٹاتے ہیں اور پھر گردن کاٹتے ہیں لیکن وہ یونہی تلوار چلاتے چلے جاتے ہیں یہ کوئی اصول نہیں۔یہ بے اصولا پن ہے۔ابھی وہ قصاب بات کر رہے تھے کہ دشمن کی فوج شہر میں داخل ہو گئی اور اس نے بادشاہ کو قید کر لیا۔پس جو باتیں انسان کے سپرد ہیں وہ جب بھی ان کے متعلق کوشش کرنا ترک کرے گا، دھوکا کھائے گا اور اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔مسلمانوں نے تو کل تو کل کا ورد کرنا شروع کیا۔نہ خزانوں کا انتظام کیا گیا اور نہ ٹیکس لگائے گئے۔یا کسی پر ٹیکس لگا دیا اور کسی پر نہ لگایا، ہائی کورٹ کے جج ہیں تو اُن کی تنخواہ پچیس روپے ماہوار ہے، دو چار افسر مقرر ہیں، سپاہیوں کی ضرورت محسوس ہوئی تو سب لوگوں کو باہر نکلنے کے لیے کہہ دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ کی چھوٹی چھوٹی طاقتوں نے مسلمانوں کی بڑی بڑی حکومتوں کو شکست دے دی۔بخارا کی حکومت بڑی بھاری حکومت تھی۔اس نے ایک طرف ایران کو اپنے ماتحت کر لیا تھا تو دوسری طرف بغداد کی حکومت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے تھے۔وہ سندھ تک فتوحات کرتے چلے آئے۔لیکن جب اس حکومت پر روس نے حملہ کیا تو یہ اس کے مقابلے کی تاب نہ لا سکی۔روس کی فوجوں کے پاس تو ہیں تھیں، گولہ بارود تھا، زمانہ کے مطابق دوسرے ہتھیار تھے لیکن بخارا کی حکومت نئے سامانِ جنگ سے محروم تھی۔جب اس نے تو ہیں بنانے کا حکم دیا تو مولویوں نے فتوی دے دیہ کہ یہ جائز نہیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آگ کا عذاب اپنے اختیار میں رکھا ہے۔بادشاہ نے کہا دشمن ان توپوں کے ذریعہ تین تین میل تک حملہ کرتا ہے۔اس کا مقابلہ ہم کیسے کریں گے؟ مولویوں نے کہا یہ بالکل جھوٹ ہے کہ دشمن تین تین میل سے توپ سے گولہ پھینک سکتا ہے۔بہر حال مولویوں کے اعتراضات کی وجہ۔حکومت نے توپ خانہ توڑ دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب روس نے حملہ کیا تو گو اس کے پاس بہت کم فوج تھی لیکن چونکہ ان کے پاس نئے نمونہ کے ہتھیار تھے اس لیے انہوں نے دو دو، تین تین سے