خطبات محمود (جلد 35) — Page 108
$1954 108 خطبات محمود موجب یہی بات ہوئی ہے کہ انہوں نے تدبیر چھوڑ دی۔انہوں نے اپنی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے خود کوشش کرنا ترک کر دیا تھا۔دشمن نے فوجیں تیار کر لیں، اس نے تو ہیں ایجاد کیں ، گوله بارود ایجاد کیا، اور ملک کو منظم کر کے مضبوط حکومت قائم کر لی، مستقل خزانے قائم کیے ملازموں کی معقول تنخواہیں مقرر کیں تا وہ رشوت نہ لیں لیکن مسلمان اپنے پرانے طریق پر چلتے چلے گئے۔وہ یہی سمجھتے رہے کہ خزانے بادشاہ کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ جہاں چاہیے خرچ کر لے۔فوج کا کوئی انتظام نہیں تھا۔، سڑکوں کا کوئی انتظام نہیں تھا، بادشاہ اپنا خزانہ عیاشی میں لگا دیتا تھا، کسی بادشاہ سے لڑنے چلے تو اُس نے ملک میں اعلان کر دیا۔اس پر کوئی جلا ہا آگے نکل آیا، کوئی دھوبی آ گیا ، کوئی لوہار باہر نکل آیا، کوئی بنیا ہے تو اُس نے تکڑی ہاتھ میں پکڑی ہوئی ہے اور دشمن پر غصہ کا اظہار کر رہا ہے، کوئی قصاب ہے تو وہ اپنی چھری تیز کر رہا ہے لیکن گجا منظم فوج اور گجا یہ غیر منظم لوگ۔غیر منظم لوگ ہزار بھی ہوں تو پانچ منظم سپاہی انہیں شکست دے سکتے ہیں کیونکہ انہیں حملہ کرنے کا طریق نہیں آتا، انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اصول کے ماتحت دائیں بائیں ہو کر کس طرح لڑا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ کوئی بیوقوف بادشاہ تھا۔اس نے خیال کیا کہ قصاب لوگ روزانہ بکرے کاٹتے ہیں۔انہیں اس کام کی خوب مشق ہے۔اس لیے کیوں نہ ان سے فوج کا کام لیا جائے اور فوج پر جو لاکھوں روپے سالانہ خرچ ہوتے ہیں انہیں بچایا جائے۔چنانچہ اس نے فوج کو ہٹا دیا اور ملک کے قصابوں کو حکم دیا کہ اگر ملک پر حملہ ہوا تو وہ دشمن کا مقابلہ کریں گے۔کسی ہمسایہ بادشاہ نے سنا کہ اس ملک کا بادشاہ ایسا بیوقوف ہے کہ اس نے فوج کو ہٹا دیا ہے اور قصابوں کو دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے حکم دیا ہے۔تو اس نے حملہ کر دیا۔بادشاہ نے اپنے وزراء کو حکم دیا کہ ملک کے سارے قصاب جمع کروانی تا وہ دشمن کی فوج کا مقابلہ کریں۔چنانچہ ملک کے سارے قصاب جمع کر لیے گئے۔قصاب لوگ صرف بکرے ذبح کرنا جانتے تھے۔انہیں جنگ کا کیا پتا تھا۔وہ ہنستے کھیلتے اور چھریاں ہاتھ میں پکڑے دشمن کی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے چلے گئے۔گویا وہ بکرے ذبح کرنے رہے ہیں۔جب دشمن سامنے آیا تو اس کے ایک سپاہی کو پکڑ کر کوئی اس کا سر پکڑتا، کوئی ٹانگیں