خطبات محمود (جلد 35) — Page 377
$1954 377 خطبات محمود انسان کے اندر بولنے، چلنے اور دانت نکالنے کا ہوتا ہے۔ان سارے تغیرات کو دیکھا جائے تو ای معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک محدود وقت میں ہونے لگ جاتے ہیں۔بعض بچے ایسے ہوتے ہیں جو پہلے بولنے لگ جاتے ہیں اور بعض بچے پہلے چلنے لگ جاتے ہیں۔ایک غریب سے غریب گھر میں بھی جو بچوں کے لیے گڑیاں بھی نہیں خرید سکتا، بچہ غوں غھوں کرتا ہے تو دوسرے بچے شور مچا دیتے ہیں کہ ننھاتھوں نوں کر رہا ہے۔یا وہ سر اُٹھانے لگ جاتا ہے تو دوسرے بچے شور مچا دیتے ہیں کہ آج ننھا سر اُٹھا رہا ہے۔انہیں سارے تغیرات نظر آتے ہیں لیکن ہمیں نظر نہیں نے ہم کہتے ہیں کہ فلاں پیدا ہوا اور جوان ہوا۔درمیانی تغیرات کا علم ہمیں نہیں ہوتا لیکن اردگرد کے رہنے والے اُس کے معمولی معمولی تغیرات کو بھی محسوس کرتے ہیں۔مثلاً بچہ نھوں ٹھوں کرتا ہے تو ارد گرد والے کہتے ہیں ننھا نھوں غوں کر رہا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کل تک اُس نے غموں ٹھوں، کیا تھا۔یا اگر بچہ منہ میں انگوٹھا ڈالتا ہے تو اس کے قریب رہنے والے کہتے ہیں ننھے نے اپنا انگوٹھا منہ میں ڈالا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ ترقی اُس نے آج کی ہے۔کل تک اس نے منہ میں انگوٹھا نہیں ڈالا تھا۔پھر ایک اور زمانہ آتا ہے۔جب بچہ اپنا سر اُٹھانے لگ جاتا ہے۔اردگرد والے اُس کے اس تغیر کو بھی محسوس کرتے ہیں۔جس وقت بچے کے اعصاب مضبوط ہو جاتے ہیں اور وہ لوگوں کو اردگرد چلتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ بھی اپنی گردن اونچی کرتا ہے اور قریب کھیلنے والے بچے شور مچاتے ہیں کہ آج ننھے نے گردن سیدھی کی ہے۔اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ آج سے قبل اُس نے ایسا نہیں کیا تھا۔یہ ترقی اس نے آج کی ہے۔پھر بچہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ بیٹھنے لگ جاتا ہے اور اپنی کمر ایک حدی تک سیدھی کر لیتا ہے تو بچے شور مچاتے ہیں کہ ننھا بیٹھ گیا ہے۔اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اس نے یہ ترقی آج کی ہے۔پھر ان تغیرات کے ساتھ ساتھ حالات میں بھی تغیر ہوتا ہے۔جب بچہ اتنی چھوٹی عمر کا ہوتا ہے کہ وہ صرف چار پائی پر لیٹا رہے تو ماں کو چوبیس گھنٹہ اُس کا خیال رکھنا پڑتا ہے اور یہ خیال بھی صرف اس حد تک ہوتا ہے جس حد تک بچے کے لیٹنے کا سوال ہوتا ہے۔پھر بچہ کچھ بڑا ہو جاتا ہے اور اپنے منہ میں انگوٹھا ڈالنے لگ جاتا ہے تو جن لوگوں کو توفیق ہوتی ہے وہ اپنے بچوں کو چوسنی لے دیتے ہیں تا وہ اسے مسوڑھوں کے نیچے