خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 376

$1954 376 خطبات محمود اور جلدی اس لیے کہ یہ زمانہ جلدی کرنے کا ہے۔دنیا دوڑ رہی ہے۔جب تک ہم دنیا کے کی ساتھ ایسی رفتار کے ساتھ نہ دوڑیں کہ ہماری رفتار اُس سے تیز ہو اُس وقت تک ہمیں کسی اچھے کی نتیجہ کی امید نہیں ہو سکتی۔اب میں اعلان کرتا ہوں کہ مغربی پاکستان کے لیے آخری تاریخ کی وعدے بھجوانے کی 23 فروری ہوگی اور مشرقی پاکستان کے لیے آخری تاریخ 31 مارچ ہوگی اور بیرونی ممالک جہاں کی مقامی احمد یہ آبادی ہندوستانی یا پاکستانی ہے اُن کی آخری تاریخ 30 اپریل اور باقی بیرونی ممالک کے لیے 30 جون۔میں نے گزشتہ جمعہ یہ اعلان تو کر دیا تھا کہ نئے سال میں احباب تحریک جدید کی طرف زیادہ توجہ کریں اور پہلے سالوں سے بڑھ چڑھ کر وعدے لکھوائیں لیکن دو باتیں ایسی ہیں جن کی طرف میں آج جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ اگر ہم نے اپنے مقصد میں کامیاب ہونا ہے تو ہمارے کام نے ہر سال بڑھنا ہے۔اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر ہم نے اپنے گزشتہ ارادوں، امیدوں اور پروگراموں کو پورا نہ کیا تو آئندہ ان کے پورا کرنے کی امید کم ہی کی جاسکتی ہے۔سب سے پہلے میں اس بات کو لیتا ہوں کہ ہمیں اپنے بڑھنے کا خیال رکھنا چاہیے اور یہ بات کبھی نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ جو کام ہم نے شروع کیا ہے اگر یہ ترقی کی طرف مائل ہے تو لازماً وہ بڑھے گا۔اگر ہم صرف اس بات پر کفایت کر لیں کہ جس طرح ہم پہلے تھے آئندہ بھی ہم اُسی طرح رہیں گے۔ہم بڑھیں گے نہیں تو یہ امر ہماری جماعت کے بڑھاپے پر تو دلالت کر سکتا ہے اس کی جوانی پر دلالت نہیں کر سکتا۔انسان کے اوپر تین قسم کے دور آتے ہیں۔پہلا دور انسان کے پیدا ہونے اور اُس کے ترقی کرنے کا دور ہوتا ہے۔اس دور میں ہمیشہ آج کی حالت کل کی حالت سے بہتر ہو گی اور آج کی ذمہ داریاں کل سے زیادہ ہوتی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج سے، ہم جسمانی طور پر چوبیس گھنٹے مراد نہیں لے سکتے۔انسانی زندگی کی بڑھوتی میں بعض دفعہ ایک دن، چھ ماہ کا ہوتا ہے، بعض دفعہ ایک سال کا ہوتا ہے اور بعض دفعہ پندرہ یا بیس سال کا ہوتا ہے۔اسی طرح انسانی زندگی میں بعض تغیرات ایسے ہوتے ہیں جو تین چار ماہ کے عرصہ میں ہو جاتے ہیں۔مثلاً بچپن کی عمر میں پہلا تغیر