خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 378

خطبات محمود ہے۔378 $1954 دباتا رہے۔انگوٹھا چوسنے کی خواہش طبعی ہوتی ہے کیونکہ اُس وقت مسوڑھوں میں خراش پیدا ہوتی ہے اور انگوٹھا چوسنا یا چوسنی منہ میں رکھنا دانتوں کے نکلنے اور ان کے بڑھنے میں مدد دیتا یہ چوسنی کا خرچ زائد ہو جاتا ہے۔پہلے یہ خرچ نہیں ہوتا تھا۔پھر بچہ اور بڑا ہوتا ہے۔مثلاً وہ سر اُٹھانے لگ جاتا ہے تو تکیوں کی ضرورت پیش آتی ہے تا اُس کو سر اُٹھانے میں تکلیف نہ ہو۔تکیہ رکھ کر اُس کے سر کو بلند کر دیا جاتا ہے اور اس طرح سر اُٹھانے میں اسے سہولت ہو جاتی ہے۔پھر اس سے بڑا ہوتا ہے تو گدیلوں اور تکیوں کی ضرورت ہوتی ہے تا بچہ بیٹھنے لگ جائے۔اور جب بچہ اور بڑا ہوتا ہے تو گھر والے اُسے ایک دو پیسے کی گاڑی بنوا دیتے ہیں جو بوجھ پڑنے پر آگے چلنے لگ جاتی ہے تا کہ اس طرح اُسے اپنے پاؤں ہلانے اور چلنے کی عادت پڑے۔اس کے بعد وہ اور بڑا ہوتا ہے تو اُس کے لباس کا خیال رکھا جاتا ہے۔ماں باپ سمجھتے ہیں کہ اب اسے پاجامہ شلوار یا تہبند بنا دینا چاہیے۔سردیوں میں جراب کا استعمال شروع کر دیا جاتا ہے۔پھر ایک زمانہ بڑھنے کا ایسا آتا ہے جب ہر چھ ماہ کے بعد پہلا لباس چھوٹا ہو جاتا ہے۔جن گھروں میں بچے زیادہ ہوتے ہیں وہ عموماً اس قسم کے کپڑے سنبھال کر رکھ لیتے ہیں تا دوسرے بچوں کے کام آئیں۔قومی ترقیات بھی اسی طرح چلتی ہیں۔کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ایک قوم ایک دن میں ہی پیدا ہوئی اور پروان چڑھی ہو۔قرآن کریم سے پتا لگتا ہے کہ نئی مذہبی قوم اُس وقت کھڑی کی جاتی ہے جب دنیا میں خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔جیسے فرمایا ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِ وَالْبَحْرِ 1 یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی اصل وجہ یہ تھی کہ اُس وقت بر وبحر میں فساد پیدا ہو گیا تھا اور یہی حالت ہمیشہ انبیاء کی بعثت کے وقت رہی ہے۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ 2 کہ جب بھی کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اُس کے خیالات چونکہ رائج الوقت خیالات سے مختلف ہوتے ہیں اور لوگوں کو وہ مجنونانہ باتیں معلوم ہوتی ہیں اِس لیے لوگ اُن پر مذاق اُڑاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بھلا کوئی شخص اس کی باتوں کو معقول سمجھ سکتا ہے۔غرض کوئی نئی جماعت خصوصاً الہی جماعت اُسی وقت بنتی ہے جب زمانہ میں فساد اور خرابی