خطبات محمود (جلد 35) — Page 364
$1954 خطبات محمود 364 مبلغ مشن ہمارے ہیں لیکن ہر کتاب کا مصنف جو ان مشنوں کا ذکر کرتا ہے سمجھتا ہے کہ احمدیوں کی سے مراد لا ہوری جماعت کے لوگ ہیں۔ابھی تک ہم اس کا ازالہ نہیں کر سکے۔ہمارے میں بعد میں ان کے پاس جاتے ہیں۔پچھلے دنوں ایک انگریز اور پیٹنٹلسٹ نے ہمارے سارے مشن لاہور والوں کی طرف منسوب کر دیے۔ہمارے مبلغ نے اُسے توجہ دلائی تو اُس نے کہا مجھے علم نہیں تھا۔مجھے افسوس ہے کہ میں نے انہیں غلط طور پر ایک اور جماعت کی طرف منسوب کر دیا ہے۔اگلے ایڈیشن میں میں اس کی اصلاح کر دوں گا۔لیکن تھپڑ لگ گیا تو بعد میں کلہ ملنے کا کیہ فائدہ۔کوشش تو یہ ہونی چاہیے کہ تھپڑ لگے ہی نہیں۔خواجہ کمال الدین صاحب کے اندر میل ملاقات کا شوق پایا جاتا ہے۔ہمارے مبلغین میں یہ بات نہیں پائی جاتی۔اب میں نے انہیں جبراً اس طرف لگایا ہے۔وہ صرف مسجد میں بیٹھے رہتے تھے۔ان کی مثال ایک مکھی کی سی تھی جو اپنے چھتے پر بیٹھی رہتی ہے۔خواجہ صاحب میں میل ملاقات کرنے، سوشل تعلقات قائم کرنے اور دوسرے لوگوں کی خاطر مدارات کرنے کا شوق تھا اور موجودہ شہرت اُن کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے۔انگلستان اب بھی مستشرقین کا سردار ہے۔دنیا کے دوسرے مستشرق بھی انگلستان کے ذریعہ ہی ترقی کرتے ہیں۔جرمن کے مشہور مستشرق نولڈ کے کا نام بھی انگلستان کے ذریعہ ہی مشہور ہوا۔اسی طرح فرانس کے مستشرقین ہیں انہیں بھی جو ترقی نصیب ہوئی انگریزی زبان کے ذریعہ ہوئی۔اور اس کی یہ ہے کہ سلطنت برطانیہ دنیا کے ایک وسیع حصہ میں پھیلی ہوئی ہے۔اور پھر امریکہ میں انگریزی بولی جاتی ہے اس لیے انگریزی لٹریچر صرف انگریزوں کے ذریعہ ہی نہیں بلکہ امریکنوں کے ذریعہ بھی باہر جاتا ہے۔گویا انگریزی زبان کو دُہری طاقت حاصل ہے۔امریکہ کی قوت اور طاقت اور برطانیہ کی وسیع سلطنت کی امداد سے حاصل ہے جو کسی اور زبان کو حاصل نہیں۔ان مستشرقین سے خواجہ صاحب نے تعلقات پیدا کیے اور ان کے تعلقات اور ان کی کوششوں کا ہی ہے کہ وہ لوگ احمدیت اور خواجہ صاحب میں فرق نہیں کرتے۔جیسے پہلے امریکنوں کو یہ پتا نہیں تھا کہ پاکستان اور انڈیا الگ الگ ممالک ہیں۔وہ پاکستان انڈیا لکھ دیتے تھے۔گویا پاکستان، انڈیا کا ایک حصہ ہے۔اسی طرح مستشرقین یہی سمجھتے ہیں کہ خواجہ صاحب