خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 363

$1954 363 خطبات محمود بتائیں کہ انہوں نے گزشتہ پانچ سو سال میں اسلام کی کیا خدمت کی ہے؟ اس پر حکومت کے ان ذمہ دار لوگوں نے جماعت کی مساعی کی تعریف کی اور کہا ہم ریڈیو والوں کو ہدایت کریں گے کہ وہ اس قسم کی تقاریر نشر نہ کریں۔اچھا کام کرنے والوں کے خلاف کچھ کہنا ہمارے اصول کے خلاف ہے۔پھر افسروں نے پرائیویٹ طور پر اور ریڈیو پر بھی معذرت کا اظہار کیا۔پھر سیلون، برما اور ملایا میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے نئے مشن کھولے گئے ہیں۔اب کوشش کی جا رہی ہے کہ فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں بھی مشن قائم کیا جائے۔وہاں مسلمانوں کی ایک جماعت نے حکومت کو لکھا ہے کہ انہیں مبلغ کی ضرورت ہے۔لہذا وہ احمدیوں کو اپنا مبلغ بھیجنے کی اجازت دے۔پھر جیسا کہ میں نے پچھلے خطبہ میں بھی بتایا تھا کہ آسٹریلیا اور کینیڈا میں بھی نئے رستے کھلے ہیں اور سوائے اُن ممالک کے جو آئرن کر ٹین (IRON-CURTAIN) کہلاتے ہیں باقی ممالک میں تبلیغ کے نئے رستے کھل رہے ہیں۔جاپان والے بھی کہہ رہے ہیں کہ تم اپنا مبلغ بھیجو بلکہ وہ اس بات کے لیے بھی تیار ہیں کہ اُن کا ایک پروفیسر یہاں تعلیم حاصل کرے اور اس کا خرچ ہم دیں اور ہمارا ایک آدمی جاپان میں تعلیم حاصل کرے اور اُس کا خرچ وہ دیں تا کہ ایکیھنچ کے حصول کی کوئی تکلیف نہ ہو۔غرض تحریک جدید کے کام کو دیکھا جائے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے کام بہت وسیع ہوتی چکا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ پہلے سے پندرہ بیس گنا کام بڑھ گیا ہے۔اور شہرت کو دیکھا جائے تو موجودہ شہرت پہلے سے سو گنا سے بھی زیادہ ہے۔پہلے لوگ احمدیت سے واقف نہیں تھے لیکن اب لوگ احمدیت سے واقف ہو چکے ہیں اور اُن کی طرف سے جو لٹریچر شائع کیا جاتا ہے اُس میں احمدیت کا ذکر ہوتا ہے۔میں افسوس سے کہتا ہوں کہ ایک کام میں ہم ابھی تک کامیاب نہیں ہوئے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہمارے مبلغین کی سستی کی وجہ سے ہے۔لاہور والوں کا اس وقت کوئی مشن نہیں۔انگلینڈ کا مشن آزاد ہے، جرمنی میں ایک مشن تھا لیکن وہاں کے مشنری نے استعفی دے دیا ہے، امریکہ میں ایک مشن قائم ہوا ہے لیکن مجھے پتا نہیں کہ آزاد ہے یا نہیں۔