خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 25

$1954 25 25 خطبات محمود اور جب بچے مسجد میں آئیں گے تو وہ شور بھی مچائیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں مساجد میں آتی تھیں اور اُن کے ساتھ بچے بھی آتے تھے۔اور پھر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بچے بھی شور کرتے تھے جس کی وجہ سے آپ بعض دفعہ نماز جلد پڑھا یتے تھے۔پس ساری جماعت کا فرض ہے کہ وہ اس کے متعلق غور کرے اور سوچے کہ وہ کونسے طریق ہیں۔یورپ والوں نے بعض طریق ایجاد کیے ہوئے ہیں۔اُن کے ہاں جمعہ کی قسم کی تقریبیں تو نہیں ہوتیں ہاں! جلسے ہوتے ہیں یا دفاتر ہوتے ہیں جہاں سینکڑوں مرد ، عورتیں کام کرتے ہیں۔جلسہ گاہ کے قریب ایسے کمرے بنا لیے جاتے ہیں جہاں نرسیں ہوتی ہیں۔عورتیں اپنے بچے وہاں چھوڑ آتی ہیں اور وہ نرسیں اُن کی نگرانی کرتی ہیں۔لیکن ہماری عورت کے پاس تو بعض دفعہ کپڑے صاف کرنے کے لیے صابن بھی نہیں ہوتا وہ نرسوں پر خرچ کس طرح کر سکتی ہے۔یہ تو مالداروں کے چونچلے ہیں ان کی مسلمانوں سے امید نہیں کی جاسکتی۔وہاں روپیہ ہے اس لیے وہ اس طریق پر عمل کر لیتے ہیں۔مسلمانوں کے پاس روپیہ نہیں اس لیے وہ اس طریق پر عمل نہیں کر سکتے۔ایک شکایت اس کو احمدی خاتون نے یہ کی ہے کہ پچھلے جمعہ میں جب میں یہاں نہیں تھا تی میرے بعد جس خطیب نے خطبہ پڑھا وہ تھتھلاتے تھے تو اس پر عورتیں ہنس پڑتی تھیں۔یہ بات نہایت افسوسناک ہے۔طبعی نقص پر ہنسنا اور مذاق اُڑانا، سخت کمینہ اور گندہ فعل ہے۔لجنہ اماء اللہ کو اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔خطیب اول تو ادب اور احترام کے مقام پر ہوتا ہے۔اس لیے اُس کی باتیں عزت اور احترام کے ساتھ سنی چاہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سلسلہ میں بہت احتیاط فرماتے تھے۔حضرت بلال حبشی تھے۔آپ ”ش“ اور بعض دوسرے حروف ادا نہیں کر سکتے تھے۔آپ اذان پر مقرر تھے۔اس لیے ان حروف کو ادا نہ کر سکنے کی وجہ۔اذان میں غلطی کر جاتے تھے۔صحابہ اس پر ہنس پڑتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم۔صحابہ کوایسا کرتے دیکھا تو فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تم بلال کے ”ش“ کو ”س“ کہنے پر ہنس پڑتے ہو اور اسے حقارت سے دیکھتے ہو۔حالانکہ خدا تعالیٰ عرش پر اس کی تعریف کر رہا ہوتا 66 ہے۔اس طرح تم خطیب کے تھتھلانے کو اُس کی کمزوری خیال کرتے ہو